تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 925 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 925

تحریک جدید - ایک الہی تحریک اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 26اکتوبر 1984 ء ضل سے سب جماعتوں پر پورا اترتی ہے۔لیکن ربوہ کو اللہ تعالیٰ نے یہ خاص مقام عطا فر مایا کہ فیصد اضافہ کے لحاظ سے سارے پاکستان کی بلکہ ساری دنیا کی جماعتوں میں آگے بڑھ گیا ہے۔دوسرے نمبر پر سیالکوٹ آتا ہے۔یہاں اضافہ %54۔5 ہے۔لیکن سیالکوٹ کا جو اضافہ ہے، وہ اس لحاظ سے اتنازیادہ خوشکن نہیں کہ سیالکوٹ کی جماعتیں کچھ ضرورت سے زیادہ دیر سے سوئی ہوئی ہیں اور جو ان کے اندر اصل معیار ہے، جو خدا تعالیٰ نے ان کو استطاعت عطا فرمائی ہے، اس سے ابھی بھی پیچھے ہیں۔چنانچہ سارے سیالکوٹ کا بڑھنے کے بعد بھی 36,000 تک وعدہ پہنچا ہے۔اور ربوہ کا ایک شہر کا چار لاکھ سے اوپر ہے۔حالانکہ سیالکوٹ ہی میں اس وقت سب سے زیادہ جماعتوں کے تعداد ہے۔لیکن مشکل یہی ہے، جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ ایک لمبے عرصہ تک سیالکوٹ نے نیند کے مزے اڑائے ہیں یا ایک اور بات بھی ہے کہ سیالکوٹ والے سمجھتے ہیں کہ ساری دنیا میں جو قربانیاں دے رہے ہیں احمدی، ان میں سب سے آگے سیالکوٹی ہیں، اس لئے وہی کافی ہیں ہماری طرف سے۔وہ کام کرتے رہیں، ہماری صف اول بن کر ہم ان کے ثواب میں حصہ لیتے رہیں گے۔یہ امر واقعہ ہے کہ سارے پاکستان میں بھی بلکہ ساری دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے سیالکوٹیوں کو غیر معمولی طور پر جماعتی خدمات کی توفیق ملی ہے اور مل رہی ہے۔تو یہ میں اس لئے کہ رہا ہوں کہ آپ سیالکوٹ بیچارے کو بالکل ہی نکمانہ سمجھ لیں۔اس میں بھی جان ہے خدا کے فضل سے۔لیکن باہر جا کر زیادہ جان پڑتی ہے، سیالکوٹ میں رہ کر کم پڑتی ہے۔باہر کے سیالکوٹیوں کو بھی چاہئے کہ کچھ ان کی طرف فکر کریں۔اپنے عزیزوں کو لکھیں، ان کو کہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تمہیں کو اپنا دوسرا وطن قرار دیا تھا، اس کی لاج رکھ لو اور جس طرح ہم باہر نکل کر قربانیوں میں پیش پیش ہیں، تم بھی پیش پیش ہو۔یہ درست ہے کہ وہاں جو پیچھے رہنے والے ہیں، ان کے مالی حالات بہت قابل فکر ہیں، بہت حد تک۔اور زمینیں چونکہ بٹ گئی ہیں، پھر اور بٹ گئیں۔اس کے نتیجے میں کچھ اختلاف بھی پیدا ہوئے، کچھ بے برکتیاں بھی پیدا ہوئیں اور اس کی وجہ سے مالی حالات پر برا اثر ہے۔لیکن مالی حالات اچھے کرنے کا بھی یہی علاج ہے کہ چندے دیں۔یہ نکتہ کبھی نہیں بھولنا چاہئے۔جو لوگ قربانیاں کرتے ہیں خدا کی خاطر اور اپنی ضروریات پر ترجیح دیتے ہیں دین کی ضرورت کو ، اللہ تعالیٰ ان کے گھر بھی برکتوں سے بھرتا ہے اور ان کی نسلوں کے گھر بھی برکتوں سے بھر دیتا ہے۔اور کبھی بھی کوئی انگلی خدا کی طرف اس شکوہ کے ساتھ نہیں اٹھ سکتی کہ ہمارے ماں باپ نے قربانیاں دی تھیں تو ہم 925