تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 924 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 924

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 26 اکتوبر 1984ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک فیصد ( %64)، لائبیریا میں تریسٹھ فیصد ( %63 ) ، گی آنا میں اڑتیس فیصد (380) ، آئیوری کوسٹ میں لتیس فیصد (310) ، یوگنڈا میں پینتیس فیصد ( 350 ) ، غانا میں تھیں فیصد (300)، ناروے میں اٹھائیس فیصد (280) ٹرینیڈاڈ پچیس فیصد (250) اور شرق اوسط میں اٹھاون فیصد ( %58) اضافہ ہوا ہے۔الحمد للہ اللہ تعالیٰ ان کو بہترین جزا عطا فرمائے۔باقی جو ممالک ہیں، جن میں معمولی اضافہ نسبتاً ہے ، ان کی فہرست پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔لیکن کچھ ممالک ایسے ہیں، جو پیچھے بھی ہٹے ہیں اور میرا یہ خیال ہے کہ اس میں انتظامی دقت ہے یعنی انتظامی کمزوری ہے ورنہ یہ ناممکن ہے کہ جماعت کا قدم پیچھے ہے۔کیونکہ ہمارا تجربہ تو یہی ہے کہ جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے:۔يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ جماعت کے اوپر چاہے تنگی کا زمانہ ہو، چاہے خوشحالی کا زمانہ ہو، یہ بہر حال آگے قدم بڑھاتی ہے۔چنانچہ ربوہ کی مثال آپ دیکھ لیجئے۔ربوہ میں، جو فہرست ہے شہروں کی، پاکستان کے شہروں کی، اس میں سب سے زیادہ حیرت انگیز طور پر ربوہ میں اضافہ ہوا ہے۔حالانکہ ربوہ میں نسبتا غرباء کی تعداد بہت زیادہ ہے۔اور ایک بہت بڑی تعداد تو ایسی ہے کہ جن کو اگر سلسلہ گندم اور ضروریات مہیا نہ کرے تو ان کے لئے رہن سہن مشکل ہو جائے۔بہت ہی تکلیف دہ حالات پیدا ہوں اور بہت سے واقفین ہیں۔اسی طرح مختلف مصائب کے مارے ہوئے پناہ کے لئے باہر سے یہاں آجاتے ہیں۔تو عمومی معیار، اللہ تعالیٰ اس کو بلند فرمائے ، فی الحال یہ بہت کم معیار ہے۔لیکن گزشتہ تین سال کے اندر ربوہ نے اخلاص میں جو ترقی کی ہے، وہ اس سے ظاہر ہوتی ہے کہ سال 48 میں دو لاکھ ان کا وعدہ تھا اور اس سے آئندہ سال تین لاکھ، انہتر ہزار کا ہوا اور امسال جو گزرا ہے، خدا تعالیٰ کے فضل سے چار لاکھ سے کچھ اوپر وعدہ ہو چکا ہے۔یہ وعدہ نہیں ہے، وصولی ہے۔ربوہ کے تین سال پہلے یعنی آج سے تین سال پہلے جو وصولی تھی ، وہ دولاکھ نو ہزار (2,09,000) تھی اور آج اس کی وصولی چار لاکھ، ایک ہزار نو روپے ہو چکی ہے۔حالانکہ حالات ایسے خطرناک رہے ہیں ربوہ میں اور ایسی پریشانیاں رہی ہیں کہ خطرہ یہ تھا کہ سب سے زیادہ ربوہ کے چندوں پر برا اثر پڑے گا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے جو مومنوں کی صفات بیان فرمائی ہیں قرآن کریم میں ، ان میں ایک یہ ہے:۔وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ کہ وہ اللہ کی ضروریات کو یعنی دین کی ضروریات کو اپنی ذاتی ضروریات پر ترجیح دیتے ہیں۔خواہ دہ جنگی کی حالت میں ہی اور نہایت مشکلات کی حالت میں گزارہ کر رہے ہوں۔تو یہ تعریف اللہ تعالیٰ کے 924