تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 895 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 895

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 29 جون 1984ء تحریک جدید - ایک اللہی تحریک کاش میرے پاس بھی ہوتا تو میں پیش کرتی۔اور جو ہے، وہ اتارتی جاتی تھی ، ساتھ ساتھ۔اور بالکل خالی ہو گئی۔یہ جو کچھ ہے، یہ تو فوراً بھجواؤ۔لیکن میں اس بات پر رو رہی ہوں کہ کاش میرے پاس ہوتا۔یہ تو پیش کرنے والی چیز کوئی نہیں ہے۔اس خاتون کو بھی میں خوشخبری دیتا ہوں تمہارا بھی قرآن کریم میں ذکر اللہ تعالیٰ ان رونے والوں کا جب ذکر فرماتا ہے تو تم بھی اس میں شامل ہو۔کتنی عجیب کتاب ہے، کیسا عظیم کلام ہے اور کیسے عظیم ہمارے آقا ہیں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کہ جس حالت میں بھی ہمیں وہ خدا پاتا ہے آپ کی غلامی میں، ہم پر رحمت اور فضل ہی کی نظر ڈالتا ہے۔ایک اور بچی کے متعلق اطلاع ملی کہ نئی نئی دلہن پاکستان سے آئی تھی۔اور زیورات جو دئیے تھے، اس کی خواہش تو یہی تھی کہ جاؤں گی خاوند سے ملوں گی تو زیورات پہن کر سچ کر پھر مجالس میں جایا کروں گی۔تو جب اطلاع ملی تو ابھی اس نے زیور پہنا نہیں تھا کوئی۔چنانچہ ایک دفعہ بھی نہیں پہنا، ساراز یوراسی وقت جماعت کی خدمت میں پیش کر دیا۔اور پھر ایسے جو قربانی کرنے والے ہیں، وہ اپنے اوپر کوئی رحم نہیں کرتے۔یعنی یہ خیال نہ کریں کہ وہ بڑے درد محسوس کرتے ہیں کہ ہم سے یہ کیا ہو گیا ، ہمارے ہاتھ خالی ہو گئے۔کیونکہ جو خط آتے ہیں، اس میں اصل لطف کی بات یہ ہے، وہ اتنے پیار اور محبت سے اپنے خالی ہاتھوں پر نظر ڈالتی ہیں عورتیں، پھر جب شیشوں میں دیکھتی ہیں اپنے چہروں کو کہ وہاں جھوم نہیں ہیں کوئی، کوئی بندے باقی نہیں رہے، کوئی بالی باقی نہیں رہی تو بڑا ہی سرور حاصل کرتی ہیں۔کہتی الحمد للہ۔یہ ہے زینت، جو خدا کی راہ میں ہمیں نصیب ہوئی ہے۔تو یہ ایک ایسی جماعت ہے، جس کی کوئی مثال نہیں۔ساری کائنات میں جماعت احمد یہ جیسی آج کوئی جماعت نہیں ہے۔یہ خلاصہ ہے کا ئنات کا۔کیسے ممکن ہے کہ خدا اس جماعت کو مٹنے دے۔سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔بڑے بڑے متکبر آئے ہیں، پہلے بھی مٹانے کے لئے۔اور خود مٹ کر صفحہ ہستی سے غائب ہو گئے۔اور ابھی بہت آئیں گے۔کیونکہ جماعت کا جو رستہ ہے، یہ تو رستہ ہی قربانیوں کا رستہ ہے۔لیکن یہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ان بندوں کو خدا انہیں مٹنے دے سکتا، جن کے اندر خدا کی محبت اس طرح ٹھاٹھیں مار رہی ہو۔اور جو کچھ خدا نے دیا ہو، وہ پیش کرتے ہوں اور پھر روتے ہوں کہ ہم پیش کچھ بھی نہیں کر سکے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، بہت سے خطوط ہیں۔اس کثرت سے روزانہ آتے ہیں کہ جو زخم غیر لگاتے ہیں، وہ ان کے اوپر لگتا ہے، پھاہ رکھ رہے ہیں۔یعنی بیک وقت ایسی اطلاعیں ملتی ہیں کہ جماعت کے دوستوں کے اوپر ظلم ہورہا ہے، احمدیت پر مظالم ہورہے ہیں، جس سے سینہ چھلنی ہو جاتا ہے۔895