تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 894
اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 29 جون 1984ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم برابر سمجھے جائیں، حالانکہ برابر نہیں ہیں، کیونکہ وہاں بہت سے نوجوان بے کار بھی ہیں اور کئی قسم کی مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں، کئی ہیں، جو صرف حکومت سے جو گزارے مل رہے ہیں، اسی پر رہ رہے ہیں۔یہاں بھی ایسے ہوں گے مگر وہاں تعداد زیادہ ہے۔تو بہر حال چھ، سات گنا زیادہ تعداد ہے، انگلستان کے احمدی احباب کی۔اور اب تک انگلستان کی طرف سے پاؤنڈوں میں اگر پیش کیا جائے تو دولاکھ، ترانوے ہزار تین سو، نناوے پاؤنڈ چندہ موصول ہوا ہے۔یعنی وعدے موصول ہوئے ہیں اور جرمنی کی طرف سے اب تک دولا کچھ بتیس ہزار دوسو، چالیس پاؤنڈ کے وعدے موصول ہو چکے ہیں۔جہاں تک دیگر قربانیوں کے نمونوں کا تعلق ہے، اس لحاظ بھی خدا کے فضل سے جرمنی پیچھے نہیں ہے۔بلکہ بعض بڑے دلچسپ ایمان افروز واقعات پہنچ رہے ہیں۔مثلاً ایک نو جوان آئے ہوئے تھے میٹنگ کے سلسلے میں فرینکفرٹ اور وہیں ان کو اطلاع ملی کہ یورپ کے لئے تحریک ہوئی ہے۔اس سے پہلے ان کے وکیل کی چٹھی آچکی تھی کہ تمہارا جو کیس چل رہا ہے عدالت میں، اس کی میری دو ہزار مارک فیس ہے، وہ تیار رکھو کیونکہ اس کے بغیر وہ کیس نہیں چلے گا۔تو دو ہزار مارک ہی ان کے پاس تھا اس وقت۔انہوں نے فیصلہ کیا کہ میں نے تو اب اس تحریک میں حصہ لینا ہی ہے۔دیکھا جائے گا، ملک مجھے باہر نکالتا ہے یا رہنے دیتا ہے؟ وکیل کی فیس دے سکوں یا نہ دے سکوں؟ کانوں میں آواز پہنچ گئی ہے، اس لئے میں نے بہر حال یہ روپیہ دے دینا ہے۔چنانچہ وہاں سے وہ دے کر اٹھے اور واپس جانے کے بعد ان کو وکیل کی طرف سے چٹھی آئی کہ تم بالکل فکر نہ کرو، حکومت نے تمہاری طرف سے فیس ادا کر دی ہے۔عجیب اللہ کی شان ہے۔اس لئے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ دل کی کیا کیفیت تھی، قربانی کے وقت؟ اور خدا تعالیٰ کس حالت میں انسان کو پاتا ہے؟ اور کس طرح اس پر رحمت کی نظر فرماتا ہے؟ ہم تو جو اطلا میں ملتی ہیں، ان سے اندازہ لگاتے ہیں۔مگر خدا عالم الغیب ہے، عالم الشہادۃ ہے، ہر چیز پر نظر رکھتا ہے۔یہ یقینی طور پر ایک ضمانت ہے کہ خدا کسی قربانی کرنے والے کی کسی محسن کی قربانی کو ضائع نہیں فرمائے گا۔بلکہ بندے اسے ہمیشہ غفور اور رحیم پائیں گے۔ایک جرمنی میں ایک احمدی دوست نے چٹھی لکھی، مبلغ کو۔وہ انہوں نے پھر مجھے بھجوا دی۔اس میں ایک عجیب نقشہ کھینچا ہوا تھا۔جو کچھ ان کے پاس تھا، وہ تو انہوں نے چندہ میں دے دیا اور واپس جا کر ساتھ ٹیپ لے گئے ، کیسٹ ایک خطبہ کی ، جس میں قربانی کرنے والوں کا ذکر تھا اور اپنی بیوی کو سنانی شروع کی۔وہ معلوم ہوتا ہے، غریب لوگ ہیں، زیادہ ان کے پاس زیور نہیں تھا، خاتون کے پاس۔لیکن انہوں نے جو نقشہ کھینچا ہے، وہ بڑا ہی دردناک ہے۔کہتے ہیں، وہ ٹیپ سنتی جاتی تھی اور بلک بلک کر رو رہی تھی کہ 894