تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 893
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اقتباس از خطبه جمعه فرموده 29 جون 1984ء ہسپتال سے فارغ ہوں اور جاؤں اور پھر تلاش کر کے دوں۔اور ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جو میرے ہاتھ میں ہے، اس وقت وہ تو میں دے رہی ہوں۔تو خدا کے کام تو نہیں رکیں گے۔سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ایک ملک کی ضروریات ، اگر وہ ملک پوری نہیں کر سکتا تو دوسرے ملک ان ضروریات کو پورا کریں گے۔لیکن فکر کرنی چاہئے ، ایسے احمدیوں کی جن کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔خصوصاً ایسے حالات میں جب کہ قوم بہت عظیم خطرات کے دور میں سے گزر رہی ہو۔اس وقت قوم کے ایک حصہ کو غیر معمولی قربانیاں کرتے ہوئے دیکھنا اور پھر خاموش بیٹھے رہنا، یہ اتنا بڑا گناہ ہے، اتنی بڑی سخت دلی ہے کہ اگر ان کو فور اسنبھالا نہ گیا تو یہ لوگ ضائع ہو جائیں گے اور خدا کی ناراضگی کے نیچے آجائیں گے۔اس لئے ان کی فکر کریں۔ان سے بالکل پیسہ نہ مانگیں ، ان کو پیار سے سمجھا ئیں محبت سے جماعت کے قریب لائیں۔معلوم کریں کیا وجہ ہوگئی ؟ کیوں یہ اکھڑ گئے ہیں؟ عبادتوں میں کمی تھی یا کوئی اور دنیا داری کی چیزوں نے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے؟ بہر حال ایک مہم چلا کر ان کی تربیت کی طرف توجہ کرنی چاہیئے۔اب میں آپ کو چند مثالیں دیتا ہوں کہ کس طرح جماعت کے دوست قربانی میں اپنے اخلاص، اپنی محبت میں کیسے کیسے بلند مقامات کو چھورہے ہیں۔زیورات کی تحریک تو نہیں کی گئی تھی۔مستورات نے خود ہی انگلستان کی مستورات نے زیورات دینے شروع کئے اور بہت ہی اعلیٰ نمونہ دکھایا ہے ، انگلستان کی خواتین نے۔جب اس کا ذکر آیا جمعہ میں تو بات پھیل گئی اور جرمنی میں جو احمد کی نو جوان ہیں ، ان کی بیویوں نے بھی اس میں حصہ لینا شروع کیا۔اور جہاں تک جرمنی کی جماعت کا تعلق ہے، اب تک کے اعداد و شمار سے تو یہی لگتا ہے کہ وہ بعد میں آنے کے باوجود آپ سے آگے بڑھ گئے ہیں۔یعنی انگلستان کی جماعت سے۔اور غیر معمولی طور پر اپنی آمد کے مقابل پر انہوں نے خدا کی راہ میں زیادہ کھل کر چندے دیئے ہیں۔یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ انفرادی طور پر ہر فرد آگے بڑھ گیا۔یہ تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔اللہ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا کہ انفرادی طور پر کون آگے بڑھ رہا ہے؟ دل کے حالات پر خدا کی نظر ہے۔کمزوریوں پر مجبوریوں پر خدا کی نظر ہے۔اس لئے یہ فتویٰ تو نہ میں دینے کا اہل ہوں ، نہ مجاز ہوں، نہ دوں گا۔لیکن جو عمومی نظر آتی ہے چیز، ایک تصویر عمومی ابھرتی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ جرمنی کی جماعت اللہ کے فضل سے بہت آگے بڑھ گئی ہے۔چنانچہ آپ اس سے اندازہ کریں، جہاں تک تعداد جماعت کا تعلق ہے، انگلستان کی جماعت جرمنی کی جماعت کے مقابل پر چھ سات گنا کم سے کم زیادہ ہے۔اور اگر مالی حالات 893