تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 890 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 890

اقتباس از خطبه جمعه فرموده کیم جون 1984ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک پہنچائے گا۔چنانچہ وہی ہوا اور اس ظلم کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ نے تحریک جدید کے طور پر ہم پر فضل نازل فرمائے۔تو یہ ایک ایسا تحفہ ہے تمہارے ظلم کا کہ جب خدا کی تقدیر ہم تک پہنچانے سے پہلے پہلے اسے فضل میں بدل دیتی ہے، جو تم ظلم دے کر چلاتے ہو، وہ فضلوں میں تبدیل ہوتا چلا جاتا ہے۔میں نے کہا: یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے، یہ ازل سے اسی طرح ہوتا آیا ہے۔ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ کیا ہوا تھا ؟ آگ ہی بھڑ کائی گئی تھی نا لیکن ابراہیم تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ گلزار میں تبدیل ہو چکی تھی۔ينَارُ كُونِي بَرْدًا وَ سَلَمَّا عَلَى إِبْرَاهِيمَ (الانبياء (70) کی آواز حائل ہو جاتی ہے، رستہ میں تو تحفے تو تمہارے ہی ہیں، اس میں کوئی شک نہیں۔لیکن اللہ کی تقدیر ایک Swarm) کرتی چلی جاتی ہے۔جس طرح گندگی کو نہایت ہی خوبصورت پھولوں اور پھلوں میں تبدیل کر دیتی ہے، خدا کی تقدیر اللہ سے کون لڑ سکتا ہے؟ تم گندگی کے تحفے بھیجتے ہو، وہ رحمتوں سے پھول بن کر ہم پر برستے ہیں۔تم ظلم کے تھے بھیجتے ہو، وہ فضل بن کر ہم پر نازل ہوتے ہیں۔تو ہے تمہارا ہی تحفہ اس میں کوئی شک نہیں۔لیکن تقدیر الہی سے ہو کر آیا ہے، ہم تک۔پھر وقف جدید کا میں نے بتایا اور ابھی وہ موومنٹ نہیں چلی تھی، جو بعد میں پیپلز پارٹی نے چلائی۔تو میں نے ان کو کہا کہ آپ دیکھیں گے کہ آپ بھی ایک تحفہ دیں گے ہمیں۔اور اس تحفے کو بھی خدا فضلوں میں تبدیل کرے گا۔اور جماعت پہلے سے بہت زیادہ تیزی کے ساتھ بڑھے گی۔چنانچہ یہی ہم نے دیکھا۔تو جس خدا کی یہ اہل تقدیر جماعت نے دیکھی ہو اور ہر دکھ کو رحمتوں اور فضلوں اور خوشیوں میں تبدیل ہوتے دیکھا ہو، اس جماعت کے حوصلے کون مٹا سکتا ہے؟ اس جماعت کو شکست کون دے سکتا ہے؟ اس لئے لازماً جماعت احمد یہ جیتے گی۔لازماً آپ جیتیں گے اور خدا کے یہ عاجز اور غریب بندے جیتیں گے، جن کو آج دنیا کمزور سمجھ کر، جو ظالم اٹھتا ہے، اس پر ظلم شروع کر دیتا ہے۔مگر تقدیر الہی نے آپ کا کبھی ساتھ نہیں چھوڑتا۔کبھی ہمت نہ ہاریں، ہمیشہ دعاؤں اور صبر کے ساتھ اپنی اس راہ پر قائم رہیں اور دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کس کثرت کے ساتھ آپ پر فضل نازل فرماتا ہے۔(مطبوعہ خطبات طاہر جلد 13 صفحہ 281 تا 295) 890