تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 889 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 889

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد ششم اقتباس از خطبه جمعه فرموده کیم جون 1984ء چنانچہ ایک وفد حال ہی میں رخصت ہوا ہے۔ابھی تقریباً ہفتے سے زائد انہوں نے یہاں پر قیام کیا۔ان کا سے بڑی تفصیلی گفتگو ہوئی اور نہایت مفید مشورے ہوئے۔ایسے ایسے Avenues، ایسے ایوان کھلے کاموں کے کہ پہلے اس کے طرف تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔تو اس طرح مختلف جگہوں کے بعض جگہ دورہ کرنا ہے، بعض جگہ لوگوں کو یہاں بلوانا ہے۔تو میں امید کرتا ہوں کہ جس طرح ہمیشہ دشمن کو اس کی مخالفت اس کی توقع سے زیادہ مہنگی پڑی ہے، یہ مخالفت اتنی مہنگی پڑے گی ، اتنی مہنگی پڑے گی کہ اس کی نسلیں پچھتائیں گی ، جودشمن رہیں گی اور آپ کی نسلیں دعائیں دیں گی ، ایک وقت آکر ان لوگوں کو، جن کی بے حیائی کے نتیجہ میں اللہ نے اتنے فضل ہمارے اوپر فرمائے ہیں۔ایک یہ بھی طریق ہوتا ہے جواب کا کہ ہم دعا دیتے ہیں، ظالم تجھے کہ تیرے ظلم کے نتیجہ میں اتنے فضل خدا نے ہم پر نازل فرما دیئے۔چنانچہ ایک دفعہ ایک ایسا ہی واقع گزرار بوہ میں، ایک پرانے زمانے کی بات ہے۔یعنی اتنی پرانی بھی نہیں لیکن تقریباً تیرہ، چودہ سال کی ، ایک پیپلز پارٹی کے راہنما جو وزیر بھی تھے ، وہ ربوہ دیکھنے کے لئے آ گئے۔اور حضرت خلیفة المسیح الثالث نے مجھے فرمایا کہ تم ان کو دکھاؤ۔چنانچہ ان کو دکھاتے دکھاتے ، جب میں نے تحریک جدید کا دفتر دکھایا تو انہوں نے کہا: یہ کی چیز ہے؟ میں نے کہا: یہ آپ لوگوں کا تحفہ ہے۔انہوں نے کہا: ہم نے کون سا تحفہ دیا ہے؟ میں نے کہا نہیں، آپ سے پہلے لوگ دے چکے ہیں۔اور پھر : وقف جدید کا دکھایا تو انہوں نے کہا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: یہ بھی آپ لوگوں کا تحفہ ہے۔پھر انہوں نے تعجب کیا تو میں نے کہا: یہ آپ سے پہلے لوگ دے چکے ہیں تحفہ۔لیکن میں نے ساتھ یہ بھی کہا کہ آپ بھی ایک تحفہ دینے والے ہیں اور وہ بعد میں ظاہر ہوگا۔تو آخر انہوں نے بے چین ہو کر کہا کہ کچھ بتاؤ تو سہی اب کہ کیا کہہ رہے ہو ؟ کن معموں میں باتیں کر رہے ہو؟ میں نے کہا: تحریک جدید کا آغاز اس وقت ہوا تھا جبکہ جماعت نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے توفیق پا کر مسلمانوں کی ایک بہت عظیم الشان خدمت کی تھی، یعنی کشمیر میں۔اور بد قسمتی سے اس دور کے راہنماؤں نے سمجھا کہ اب اگر اس خدمت کو قبول کر لیا گیا تو جماعت بڑی تیزی سے پھیل جائے گی۔اس لئے اس کا بدلہ ظلم کے سوا اور کوئی بدلہ نہیں ہے۔چنانچہ مجلس احرار قائم ہوئی اور یہ ارادے ہوئے کہ قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے۔یہ دعوے ہوئے کہ ایک بھی نہیں بچے گا یہاں اس بستی میں، جو مرزا صاحب کا نام بھی جانتا ہو۔اس وقت ایک اور آواز ہم نے اٹھتی ہوئی سنی اور وہ آواز یہ اعلان کر رہی تھی کہ میں احرار کے پاؤں تلے سے زمین نکلتی ہوئی دیکھ رہا ہوں۔اور اس کثرت سے خدا ہمیں پھیلا دے گا اور دنیا کے کونے کونے میں کناروں تک اللہ اپنے فضل کے ساتھ مسیح موعود کی تبلیغ کو 889