تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 877
گے؟ اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 18 مئی 1984ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم سیاست دان تھا، اتنا بڑا سائنس دان تھا، یہ اتنا بڑا بیورو کریٹ تھا، اس کو کیا ہو گیا ہے کہ اپنے دوستوں میں تبلیغ شروع کر دی ہے۔اچھے بھلے ہمارے تعلقات، اچھے بھلے ہمارے مراسم، اس کا مذہب اپنی جگہ، میرا اپنی جگہ تبلیغ تو کبھی اس نے نہیں کی تھی پہلے۔اس شرم کو تو ڑنا ہے۔یہ جھوٹی شرم ہے اور احمدیت کی راہ میں روک بنی ہوئی ہے۔اس لئے جب دشمن نے للکارا ہے تو غور کریں کہ کیا نقائص ہیں، آپ کے؟ ان نقائص کو دور کریں۔لٹریچر کی اشاعت پر پابندی ہے۔میں نے فیصلہ کیا ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم اور اس کی توفیق کے ساتھ ساری دنیا میں اشاعت لٹریچر کے کام کوکئی گناہ زیادہ بڑھا دینا ہے۔اتنا کہ ان سے سنبھالا نہ جائے۔جتنی فرضی دنیا کی دولتیں ان کی پس پشت پر ہوں، میں جانتا ہوں کہ کس قسم کا لٹریچر یہ شائع کرنا چاہتے ہیں اور کر رہے ہیں اور کہاں سے پیسہ آرہا ہے؟ لیکن ہمارے غریبانہ پیسے میں جو خدا نے برکت دینی ہے، اس کے ساتھ دنیا کے پیسے کا مقابلہ ہی کوئی نہیں ہو سکتا۔اس پیسے میں تو جلنے کی سرشت شامل ہے۔اس لئے وہ پیسہ تو جل کر خاک ہو جائے گا۔جماعت احمدیہ کا پیسہ تو آنسوؤں سے بنتا ہے، یہ تو جل ہی نہیں سکتا، دنیا کی طاقتوں کے مقابل پر۔اس لئے جماعت کے پیسے میں بہت برکت ہوگی، انشاء اللہ تعالی۔تمام دنیا میں اشاعت کتب کا، اشاعت لٹریچر کا ایک بہت زبردست منصوبہ ہے، میرے ذہن میں۔جس کو انشاء اللہ تعالیٰ حسب توفیق آہستہ آہستہ کھولوں گا اور جہاں تک خدا توفیق عطا فرمائے گا ، اس پر عملدرآمد شروع کیا جائے گا۔لٹریچر کی اشاعت میں نئی زبانوں کو شامل کرنا ہے۔اور اس ذریعہ سے کثرت کے ساتھ ایسے ممالک میں داخل ہونا ہے، جہاں ابھی تک احمدیت داخل نہیں ہوئی۔ایسی قوموں میں داخل ہونا ہے، جہاں ابھی تک احمدیت داخل نہیں ہوئی۔ایسے طبقات میں داخل ہونا ہے، جہاں ابھی تک احمدیت داخل نہیں ہوئی۔اور بہت سے جزیرے بنے ہوئے ہیں، بہت سے خلا ہیں۔کئی قسم کے لوگ ہیں، کئی قسم کی بولیاں بولنے والے، کئی قسم کے طبقات فکر سے تعلق رکھنے والے۔اتنے بڑے بڑے خلا ہیں، جن تک ہم ابھی اس لئے نہیں پہنچ سکتے کہ ہمارے پاس لٹریچر نہیں ہے۔تو نہ صرف یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب اور موجودہ لٹریچر کو زیادہ شائع کرنا ہے بلکہ نئی زبانوں میں لٹریچر پیدا کرنا ہے۔لہذا ترجمہ کرنے والوں کی ضرورت پیش آئے گی۔ترجمہ کرنے والوں کو اپنے آپ کو خدا کے حضور پیش کرنا پڑے گا۔اور کثرت سے ایسے رضا کار چاہئے ہوں گے، جو دن رات اس کام میں مدد کریں۔مثلاً ہمارے یہاں ایک گجراتی جاننے والا خاندان ہے، انہوں نے ہی مجھے مشورہ دیا اور لکھا ایک خط چند دن ہوئے کہ گجراتی زبان میں بہت بڑا خلا 877