تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 876
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 18 مئی 1984ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک کی تقدیر کے مطابق ہمارا رد عمل ہوگا۔ایک مذہبی جماعت کا اول رد عمل یہ ہوتا ہے کہ جب خدا سے دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ اور خدا کے قریب ہو جاتی ہیں۔پس عبادت سب سے اہم بات ہے۔لوگ پوچھتے ہیں کہ ہمیں قربانی کی طرف بلاؤ، بتاؤ کیا کرنا ہے؟ آپ اگر اپنا وقت خدا کی خاطر قربان نہیں کر سکتے ، اگر آپ اللہ کے حضور عبادت کا حق ادا نہیں کر سکتے تو باقی قربانیاں بے معنی ہیں۔کیونکہ یہی مقصد حیات ہے۔اس کی خاطر خدا نے انسان اور جن کو پیدا فرمایا۔اس لئے عبادت پہلا جواب ہے۔اور یہی سب سے اہم طریقہ کار ہے۔ہمارے ہاتھ میں یہی سب سے بڑی تدبیر ہے، ہماری۔اس لئے اس تدبیر پر زور ماریں۔جس حد تک ممکن ہے، عبادت کی طرف توجہ کریں۔اپنے گھروں کا جگا دیں۔عبادت کے لئے بچہ بچہ، بوڑھا بوڑھا، عورتیں، مرد سارے عبادت گزار خدا کے بندے بن جائیں۔دوسرا ہمیں تبلیغ سے روکا جا رہا ہے۔اس لئے ظاہر بات ہے کہ الٹ رد عمل ہوگا۔رد عمل تو کہتے ہی اس بات کو ہیں کہ کوئی چیز جس طرف سے روکے، اس کے مخالف ایک قوت پیدا ہو جائے۔اور یہی زندگی کی ایک نشانی ہے۔اس لئے ہم تو زندہ قوم ہیں، اللہ کے فضل سے ہمیں تو جس سمت میں تم روکو گے، اس سمت میں آگے بڑھیں گے، اپنے رب کے فضل کے ساتھ اور اس کی نصرت کے ساتھ۔اس لئے تبلیغ کو پہلے سے کئی گنا زیادہ تیز کر دیں۔مجھے علم ہے کہ پہلے سے بہت زیادہ تعداد میں لوگ تبلیغ میں مصروف ہیں۔کئی نوجوان بھی ہیں ہمارے ہاں، اس وقت اس جمعہ میں بھی بیٹھے ہوئے ہیں کہ ایک ہندو سے مسلمان ہونے والے نوجوان، جن کو احمدی نوجوانوں نے تبلیغ کی ہے، عیسائیوں سے بھی انفرادی تبلیغ کے نتیجہ میں مسلمان ہو رہے ہیں۔تو ہر جگہ، ہر مذہب میں، ہر طبقہ فکر میں تبلیغ کو تیز کرنا ہے اور انفرادی تبلیغ پر زور دینا ہے۔اور ہر احمدی عہد کرے کہ اب میں نے اگر پہلے ایک بنانا تھا تو اب پانچ بناؤں گا۔اور اگر اور زور ڈالیں گے کہ تبلیغ بند کرنی ہے تو پھر میں دس بنا کے دکھاؤں گا۔اور اللہ کے فضل سے جب آپ خدا کی خاطر یہ عہد کریں گے تو خدا پورا کرنے کی توفیق بھی عطا فرمائے گا۔اور اس میں ہر طبقہ کے احمدی کو شامل ہونا ضروری ہے۔ہمارے اندر کوئی چوہدریوں کا طبقہ نہیں ہے کہ وہ سمجھیں کہ ہم چونکہ بڑے لوگ ہیں، اس لئے ہم تبلیغ نہیں کر سکتے۔ہم اپنے طبقے میں شرماتے ہیں، تبلیغ کرنے سے۔یہ تو درمیانے لوگوں کا کام ہے۔اگر یہ درمیانے لوگوں کا کام ہے تو درمیانوں کو خدا بڑا کرے گا اور ان کو چھوٹا کر دے گا، جو اپنی بڑائی کی وجہ سے تبلیغ سے باز رہتے ہیں۔خدا کی خاطر تبلیغ سے شرمانا ! کون ہے، جو خدا کے حضور بڑا ہو سکتا ہے؟ وہی جو خدا کے حضور گرنا جانتا ہو۔اس لئے ہر گز کوئی خیال نہیں کرنا کہ میں ٹکس طبقے سے تعلق رکھتا ہوں۔لوگ کیا کہیں 876