تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 872 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 872

پیغام فرمودہ یکم مئی 1984ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم کے باوجود میں نے اس سفر کو منسوخ نہیں کیا، جو کئی ماہ پہلے سے تبشیر کی طرف سے تجویز کیا جا چکا تھا۔نہ صرف یہ کہ میں نے اسے منسوخ نہیں کیا بلکہ اس کے دائرے میں کچھ اضافہ کرنا بھی ضروری سمجھا اور بعض نئے ممالک کو بھی اس میں شامل کر لیا ہے۔میں آپ کے لئے مجسم دعا ہوں ، آپ بھی اس سفر کی ہر لحاظ سے کامیابی کے لئے بکثرت دعائیں کریں۔إِنَّمَا أَشْكُوا بَى وَحُزْنِ إِلَى اللهِ ترجمہ میں اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ کے حضور کی ہی کرتا ہوں۔☆ رَبِّ إِنِّي لِمَا اَنْزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ ترجمہ: اے میرے رب اپنی بھلائی میں سے جو کچھ تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا محتاج ہوں۔ان نازک ایام میں میری آپ کو نصیحت بلکہ تاکیدی حکم یہ ہے کہ کسی حالت میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا۔اور قرآن کریم کی غلامی اور حضرت اقدس سیدنا ومولانا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں سے بہر حال چھٹے رہنا ہے۔حق طریق سے حق بات کی نصیحت کرتے رہیں۔صبر پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کو بھی صبر کی تلقین کرتے رہیں۔مظلومیت ایک عظیم اور نا قابل تسخیر طاقت ہے، کسی قیمت پر اسے ظالمیت میں تبدیل نہیں کرنا۔کسی کی طرف سے کوئی زیادتی آپ کو جو اب زیادتی پر آمادہ نہ کرے۔آپ اس بات پر امین بنائے گئے ہیں کہ امن کو قائم رکھیں۔آپ کی طرف سے شر نہیں بلکہ ہمیشہ خیر دوسروں کو پہنچے۔اور فساد پھیلانے والے نہ ہوں بلکہ سلامتی کے شہزادے بنیں۔عالم الغیب خدا آپ کے ظاہری دکھوں سے بھی واقف ہے اور سینوں میں مخفی سکتے اور بلکتے ہوئے عموں پر بھی اس کی نظر ہے۔خدا کے حضور بہنے والے آنسوؤں میں بہا کر اپنے ان غموں کا بوجھ ہلکا کریں۔اور دردناک دعاؤں کے ذریعہ اپنے دلوں کے بخارات نکالیں۔اللہ پر توکل رکھیں اور اس سے بے وفائی نہ کریں۔پہلے کب اس نے آپ کو تنہا چھوڑا ہے، جو آج چھوڑ دے گا ؟ پاکستان کے احمدیوں کے نام بالخصوص میرا یہ پیغام بھی ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مقدس فرمان کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں اور حرز جان بنائیں کہ حب الوطن من الايمان وطن کی محبت ایمان ہی کا ایک جز ہے۔وطن کی محبت میں اپنی سنہری درخشندہ تاریخ کی حفاظت کریں۔یہ وہ عزیز وطن ہے، جس کے قیام میں آپ نے عظیم الشان قربانیاں پیش کی ہیں۔اور قائد اعظم محمد علی 872