تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 866
خطبه جمعه فرمود و 30 مارچ 1984ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک کپڑے سے آٹے کو بھی ڈھانک دواور یاد رکھو کہ ہانڈی سے ڈھکتا نہیں اتارنا، جب تک میں نہ آ جاؤں۔اور شروع نہیں کرنا، جب تک میں خود اپنے ہاتھ سے شروع نہ کروں تقسیم نہیں کرنی۔خیر اوہ واپس گیا، بیوی کو اس نے پیغام دیا کہ اللہ ہی آج عزت رکھ لے، یہ واقعہ ہو گیا ہے۔تو اس نے کہا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوفرمایا ہے، اسی طرح کرو، سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔چنانچہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، کپڑا اٹھایا آٹے سے اور ہاتھ لگایا اور اس کو کہا کہ شروع کرو، روٹی پکانا۔اور ساتھ ہی ہانڈی سے ڈھکنا اٹھا کر تقسیم شروع کر دی۔خود ہی اب وہ صحابی خود بیان کرتے ہیں اور ایک سے زیادہ روایتوں میں یہ واقعہ بیان ہے کہ لوگ کھاتے چلے گئے اور نکلتا چلا گیا، آٹا بھی بڑھتا گیا اور ہانڈی سے سالن بھی نکلتا ہی چلا گیا اور ہمیں کچھ سمجھ نہیں آتی تھی کہ یہ ہو کیا رہا ہے؟ یہاں تک کہ جب سارے لشکر کا پیٹ بھر گیا تو اتنا کھانا بچا ہوا تھا کہ گھر والے اور اس کے علاوہ اپنے دوستوں میں سے کسی کو بھیجنا چاہیں تو بھیج سکتے تھے۔( صحیح بخاری ، کتاب المغازی، باب في غزوة الخندق) تو جو خدا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ظاہر ہوا اور آپ سے اس قدر رحمت اور فضلوں کا سلوک فرمایا، ہم بھی تو اسی خدا کے، اسی محبوب کے غلام ہیں اور اسی کے نام پر کام کر رہے ہیں۔اس لئے دنیا کے حساب سے چاہے بالکل جاہلانہ باتیں ہوں لیکن جماعت احمدیہ کے تجربہ میں ہے یہ بات سو سالہ مشاہدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ جماعت کی قربانی کی توفیق کو بڑھاتا ہے اور روپے میں کمی نہیں آنے دیتا۔ان کی ذاتی ضرورتیں بھی پہلے سے بڑھ کر پوری کر دیتا ہے اور بعض دینے والے ایسے ہیں کہ جب وہ دیتے ہیں تو اس وقت محسوس ہوتا ہے کہ گویا اپنی توفیق سے بڑھ کر وعدہ لکھوادیا اور ایک، دو سال کے اندرہی خدا ایسی برکت دے دیتا ہے کہ وہ شرمندہ ہو جاتے ہیں کہ ہم نے وعدہ کم لکھوایا تھا۔چنانچہ ابھی کل ہی مجھے پتہ لگا، لاس اینجلز سے ایک ڈاکٹر صاحب ہیں ہمارے بڑے مخلص، فدائی، انہوں نے مشنز کے لئے پچیس ہزار ڈالرز کا وعدہ لکھوایا تھا اور بعض ان کے جاننے والوں کا خیال تھا کہ شاید یہ بہت وعدہ لکھوا دیا ہے، انہوں نے۔اب دو تین دن کے عرصے کے اندران کی طرف سے خط آیا ہے اور کل اس کی تحریک (جدید) نے مجھے رپورٹ بھجوائی کہ وہ کہتے ہیں کہ جو میرے موجودہ حالات ہیں، ان کے پیش نظر پچیس ہزار ڈالرز کم ہے، اس لئے میں اس کو بڑھا کر پچاس ہزار ڈالر کرتا ہوں۔تو یہ دیکھ لیجئے کس طرح خدا کا سلوک ہوتا ہے۔اور اس کثرت سے اس مضمون کے خط دنیا سے آرہے ہوتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے پھر نیا حوصلہ ملتا ہے۔اور میں یہ رحم اس بات میں نہیں سمجھتا کہ اب مانگنا بند کر دوں۔866