تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 865 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 865

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم خطبہ جمعہ فرمود و 30 مارچ 1984ء کراچی، لاہور وغیرہ سے زیادہ پیچھے نہیں ہے۔زیادہ جو باقاعدہ بجٹ ہے۔لیکن وعدہ میں بہت پیچھے تھا۔لاہور کا وعدہ تھا تر اسی لاکھ روپے کا اور کراچی کا ایک کروڑ ، پچپن لاکھ کا اور ربوہ کا صرف میں لاکھ تھا۔تو اس لئے وہ چونکہ پہلے ہی اپنی ہمت سے بہت کم دے رہے تھے ، اس لئے ان کے کام میں نمایاں اضافہ نظر آیا۔لیکن اگر آپ ملحوظ بھی رکھیں اس فرق کو ، تب بھی گزشتہ سال ربوہ کی قربانی ان سب شہروں سے زیادہ ہے۔کیونکہ کراچی کی گزشتہ سال کی وصولی ڈیڑھ کروڑ بجٹ کے مقابل پر نو لاکھ ہے اور لاہور کی وصولی تر اسی لاکھ بجٹ کے مقابل پر سات لاکھ ہے۔اس لحاظ سے ربوہ کی وصولی تیرہ لاکھ فی ذاتہ بھی خدا کے فضل سے بہت نمایاں اور قابل تحسین ہے۔اللہ تعالیٰ اس جماعت کو جزا دے اور توفیق کے مطابق مزید آگے بڑھنے کی توفیق بخشے۔کیونکہ ابھی ربوہ میں گنجائش بہر حال موجود ہے۔C جہاں تک کراچی کا تعلق ہے، یہ خیال ہو سکتا ہے کہ ڈیڑھ کروڑ سے زائد کا بجٹ ان کی توفیق سے زیادہ تو نہیں۔کیونکہ باقی جو جماعتیں اس سائز کی ہیں، ان کے وعدوں کے مقابل پر کراچی کے وعدے یقیناً بہت زیادہ ہیں۔اس لئے یہ وہم ہو سکتا ہے کہ شاید کراچی جوش میں آکر زیادہ وعدے لکھوا گیا ہو اور اب اس کی توفیق نہ ہو، ادائیگی کی۔لیکن میرے نزدیک یہ محض وہم ہے۔اللہ تعالیٰ کا جماعت احمدیہ کے ساتھ جو سلوک ہے، وہ عام حسابی قاعدوں سے نہیں پر کھا جا سکتا۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیب سے آخری پیسہ نکل آیا ہے اور پھر جب خدا تعالیٰ کا نظام جیب میں ہاتھ ڈالتا ہے تو پھر جیب بھری ہوئی مل جاتی ہے۔پھر آپ نچوڑ لیں سب کچھ، پھر خدا تعالیٰ کا نظام جب دوبارہ ہاتھ ڈالتا ہے تو پھر جیب بھری ہوئی مل جاتی ہے۔کون سا قاعدہ کام کر رہا ہے؟ یہ ہم نہیں جانتے۔ہمیں تو اتنا علم ہے کہ کچھ اس قسم کا قاعدہ ہے، جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ خندق کے موقع پر ایک صحابی نے اور اس کی بیگم نے دعوت کی اور پتہ تھا کہ بہت دیر کا فاقہ ہے تو انہوں نے یہ سوچا کہ چند آدمی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آجائیں اور ایک چھوٹا سا بکرا ذبح ہوا ہے، دس، بارہ آدمیوں کے لئے کافی ہو جائے گا۔تو انہوں نے اشارہ سے ہلکی سی آواز میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یارسول اللہ ! کچھ تیار ہے، چند صحابہ کے ساتھ تشریف لائیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کادل تو ایک نہ ختم ہونے والا سمندر تھا اور ساری کائنات پر آپ کی رحمت محیط تھی۔یہ کیسے ممکن تھا کہ فاقے کے وقت باقی لشکر کو چھوڑ دیتے اور صرف آپ چند صحابہ کے ساتھ چلے جاتے۔آپ نے فرمایا: اچھا اعلان کر دو کہ جس جس کو بھوک لگی ہوئی ہے، سارے آجائیں۔اور وہ سارے بھوکے تھے، یہ بات سن کر وہ بہت پریشان ہو کر واپس دوڑا، اپنی بیگم کی طرف۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرو! 865