تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 855
تحریک جدید - ایک الہی تحریک یام بر موقع جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ سیرالیون حضور فرماتے ہیں:۔” جب تک کوئی جماعت خدا تعالیٰ کی نگاہ میں متقی نہ بن جائے ، خدا کی نصرت اس کے شامل حال نہیں ہو سکتی۔عزیز و! اگر خدا کی نصرت حاصل کرنا چاہتے ہو تو تقویٰ اختیار کرو۔پاک تبدیلی پیدا کرو کہ اللہ انہیں سے خارق عادت سلوک کرتا ہے، جو اپنے اندر خارق عادت تبدیلی پیدا کرتے ہیں۔اور آخری نصیحت اور میرا پیغام آپ کو یہ ہے کہ عجب اور دریا سے پر ہیز کر و۔خود پسندی اور دکھلاوے کے لئے کام نہ کرو۔یہ خدا کو پسند نہیں بلکہ وہ اس کی ناراضگی کا باعث بنتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔من برائ برائ الله به ومن يسمع يسمع الله به“۔ترندی باب ما جاء في الرياء والسمعة ) کہ جولوگوں کے دکھلاوے کے لئے کام کرتا ہے، اللہ اس کے عیوب کو ظاہر کرتا ہے۔اور جو اپنے کاموں کی تشہیر کی خاطر کام کرتا ہے، اللہ اس کے عیوب کی تشہیر کرے گا۔امام ترمذی اس باب میں ایک لمبی حدیث شفیا اور بیجی سے لائے ہیں کہ قیامت کے دن ایک مالدار، ایک قرآن کا قاری، ایک عالم لایا جائے گا۔خدا ان سے دریافت فرمائے گا، تمہیں مال ، علم ، قرآن، دیا تھا، بتاؤ تم نے کیا کیا؟ وہ کہیں گے، خداوند! امال ، علم، قرآن سے لوگوں کو فائدہ پہنچایا۔اللہ کہے گا تو نے یہ سب کچھ اس لئے کیا تھا کہ لوگوں سے واہ واہ حاصل کرے، سو تمہیں یہ غرض حاصل ہو گئی۔جاؤ، اب مجھ سے کس ثواب کے امید وار ہو۔حدیث میں آتا ہے، یہ تین وہ پہلے آدمی ہوں گے، جن پر جہنم کی آگ بھڑ کائی جائے گی۔پس تکبر اور ریا سے بچو۔خود نمائی کو ترک کر دو کہ مومن صرف خدا کے لئے نیکیاں بجالاتا ہے۔اور یہ دونوں بدخلق تو نیکیوں کو ضائع کرتے ہیں۔مامور زمانہ فرماتے ہیں:۔عجب اور ریاء بہت مہلک چیزیں ہیں، ان سے انسان کو بچنا چاہیے۔انسان ایک عمل کر کے لوگوں کی مدح کا خواہاں ہوتا ہے۔بظاہر وہ عمل عبادت وغیرہ کی صورت میں ہوتا ہے، جس سے خدا تعالیٰ راضی ہو۔مگر نفس کے اندر ایک خواہش پنہاں ہوتی ہے کہ فلاں فلاں لوگ مجھے اچھا کہیں۔اس کا نام ریا ہے۔اور عجب یہ کہ انسان اپنے 855