تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 74
اقتباس از خطبه جمعه فرموده یکم اکتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک کا مقصد عام قاری پر یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ یہ کتاب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی تصنیف ہے اور بہت کمزور تصنیف ہے۔اگر کسی چیز کی تعریف بھی کریں تو اس سے یہ اشارہ نہیں ملتا کہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔مثلاً بعض اوقات وہ زبان کی تعریف کرتے ہیں اور مسلمان اس دھوکہ کا شکار ہو جاتے ہیں کہ ان کے خیال میں وہ اب اپنا رویہ تبدیل کر کے اسلام کے دوست بن گئے ہیں۔کیونکہ انہوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی زبان میں کبھی کبھار تعریف بھی کی ہے۔بعض اوقات وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح بھی کرتے ہیں۔مگر ان شعبوں میں، جن کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔وہ آپ کی بطور انسان تعریف کرتے ہیں۔یاوہ آپ کی بعض عظیم الشان خوبیوں اور لیڈرشپ کی تعریف کرتے ہیں۔مگر یہ سب فریب ہے۔وہ اسلام کے پکے دشمن ہیں مگر اپنی زبان اور رویہ میں تبدیلی پیدا کر کے وہ لوگوں کو پہلے سے زیادہ دھوکہ دے رہے ہیں۔مجھے حال ہی میں اس بات کے معلوم ہونے پر شدید دھکا لگا کہ بہت سے عرب طلبہ برطانوی یو نیورسٹیوں میں اسلام کے مطالعہ کے لیے آتے ہیں۔تا کہ وہ ان نام نہاد مستشرقین سے اسلام سیکھیں۔صرف ایک یونیورسٹی میں ہی اسلام کا مطالعہ کرنے والے پچاس سے زائد عرب طلبہ موجود ہیں۔اور جو کچھ بھی انہیں وہاں پڑھایا جاتا ہے، وہ اسے امرت سمجھ کر پیتے ہیں۔وہ اسے یہ جانے بوجھے بغیر نگل جاتے ہیں کہ یہ وہی زہر ہے، جو پہلے بھی استعمال ہوتا تھا مگر اس کا لیبل بدل گیا ہے۔چنانچہ صورت حال بہتر ہونے کی بجائے خراب ہوئی ہے۔مگر میر امشاہدہ ہے کہ بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور ان کے عزائم کیا ہیں؟ چنانچہ اسی وجہ سے میں نے آج اس مضمون کو چنا ہے۔میں ساری دنیا کے تمام احمدیوں سے واضح طور پر چاہتا ہوں کہ وہ اس آیت میں مذکورستاروں کا کردار ادا کریں۔آپ ہی اس نئے آسمان کے ستارے ہیں، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تیار کیا تھا۔آپ ہی پر اسلام کے دفاع کی بنیاد ہے۔اگر آپ سوتے رہے تو آپ اللہ تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہوں گے۔اگر آپ نے اسلام کا دفاع نہ کیا تو کون ہے، جو آپ کی جگہ اسلام کا دفاع کرے؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ذمہ داری ہمارے سپرد کی ہے، اس نے ہمیں اسی مقصد کے لئے چنا ہے۔چنانچہ اگر ہم یہ ذمہ داری ادا نہ کر سکے تو کوئی بھی ہمارے لئے آگے بڑھ کر یہ بوجھ نہیں اٹھائے گا۔اور باقیوں میں تو اسے اٹھانے کی طاقت ہی نہیں ہے۔کیونکہ وہ اسلامی اقدار کو اس طرح نہیں سمجھتے ، جس طرح آپ سمجھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کو قرآن کریم کے مطالعہ کے ذریعہ نئے راستوں سے واقف ہونے کے راز سکھائے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کو وہ اشارے سمجھائے ہیں، جن کے ذریعہ آپ قرآن کریم کو باقی دنیا کی نسبت بآسانی سمجھ سکتے ہیں۔چنانچہ اگر آپ نے قرآنی اقدار کی حفاظت نہ کی تو پھر کوئی اور یہ کام کر ہی نہیں سکتا۔یہ میں آپ پر واضح کر دینا چاہتا ہوں اور اس وقت یہی کچھ ہورہا ہے۔74