تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 75
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اقتباس از خطبه جمعه فرموده یکم اکتوبر 1982 ء بہت سی کتب اسلام کی تعلیمات اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو بگاڑنے کے لئے مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔اور جن ممالک میں یہ طبع ہورہی ہیں ، وہاں کے احمدیوں نے ان کا نوٹس ہی نہیں لیا۔مثلاً یہاں انگلستان میں، میں نے بعض ایسی کتب دیکھی ہیں، جن کا ہمارے لٹریچر میں ذکر تک نہیں۔مگر وہ شدید ز ہر آلود ہیں۔اور نئی نسل کی اسی طرح پرورش کی جارہی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پالیسی میں جس تبدیلی کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے، یہ بعض سیاسی تبدیلیوں کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے۔کیونکہ عرب ممالک میں تیل کی موجودگی اور عرب ممالک میں دولت کی ریل پیل کی وجہ سے اب مستشرقین اپنی پالیسی تبدیل کر رہے ہیں۔اب انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مسلمان ممالک کی دشمنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواہ مخواہ کذاب قرار دے کر کیوں مول لی جائے ؟ آپ کو سچا قرار دے کر آپ کی ان کے اپنے خیال کے مطابق ( نعوذ باللہ ) جھوٹی باتوں کو اجاگر کیا جائے۔چنانچہ یہ وہ پالیسی ہے، جس نے اپنا نام تبدیل کیا ہے اور کچھ نہیں۔وہ قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ کی کتاب کہتے ہیں۔مگر پھر اس کی طرف خوفناک تضادات منسوب کر دیتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔اور قاری ان کی تفسیر قرآن کے چند صفحات پڑھ کر ہی اندازہ کر سکتا ہے۔کہ یہ بے کار باتیں ہیں، جن کا اللہ تعالیٰ سے یا الہامی کتب سے کوئی بھی تعلق نہیں۔چنانچہ یہ وہ دشمنی ہے۔جس کا آپ کو شعور ہونا چاہئے۔اور پوری کوشش کر کے اس کی شناخت کرنی چاہئے۔اس کا تعاقب کرنا چاہئے اور پھر ایسے دشمنان اسلام کو راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کر دینا چاہئے۔آپ میں سے جو دوست پڑھے لکھے ہیں اور جو اچھی انگریزی جانتے ہیں اور جو اگر پوری طرح نہیں تو کچھ نہ کچھ قرآنی اقدار اور احمدیت کی اقدار سے واقف ہیں، انہیں یہ کتابیں پڑھ کر بتانا چاہئے کہ ان میں اسلام کے خلاف کیا کہا جارہا ہے؟ انہیں فہرستیں مرتب کرنی چاہئیں۔اس کا ایک نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ اگر وہ اس کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں تو خود اس کا جواب دیں۔مگر یہ کام تمام کا تمام خود ہی نہ کرتے رہیں۔میرے ذہن میں اس کام کے کرنے کے لئے ایک واضح لائحہ عمل ہے۔سب سے پہلے تو انہیں غلط بات کی شناخت کرنی چاہئے۔ان تمام چیزوں کی فہرست تیار کریں۔پھر اس کا جائزہ لیں اور پھر ان کتب میں جو حوالہ جات درج ہیں، ان کی بنیاد تک پہنچ کر اپنی بہترین صلاحیتوں کو صرف کرتے ہوئے جواب تیار کریں۔مگر اسے صرف یہیں تک نہ چھوڑیں۔کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ وہ مؤثر طور پر اسلامی اقدار کی حفاظت نہ کر سکیں۔کیونکہ اس سارے قصے میں بہت سی چالاکیاں کی جاتی ہیں۔مختلف پہلوؤں سے بہت سی تحقیق کے بعد ہی درست جواب دیا جاسکتا ہے۔چنانچہ یہ تمام چیزیں، ایسی تمام کتب مرکز کو 75