تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 73
تحریک جدید- ایک الہی تحریک وو اقتباس از خطبه جمعه فرموده یکم اکتوبر 1982ء آپ ہی پر اسلام کے دفاع کی بنیاد ہے خطبہ جمعہ فرمودہ یکم اکتوبر 1982ء حقیقت یہ ہے کہ دشمنان اسلام ایک اور طرف سے حملہ آور ہورہے ہیں۔انہوں نے اسلام پر ایک اور رنگ میں حملہ کیا ہے۔اور اب ان کا مقابلہ مختلف قسم کے نگہبانوں سے ہے۔مگر اسلام کے بارہ میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کا ان کا مقصد وہی ہے، جو قبل ازیں تھا۔انتقامی رویہ اور دشمنی کا دستور وہی پرانا ہے، صرف انداز نسبتا تبدیل ہوا ہے۔مگر ساری دنیا کے احمدی اگر تمام نہیں تو اکثر اس طریق کی طرف توجہ نہیں دے رہے۔وہ شعوری طور پر اسلامی اقدار کی اس طرح حفاظت نہیں کر رہے، جیسی ان کو کرنی چاہئے۔میں یہاں اس تبدیلی کی بات کر رہا ہوں، جو صرف احمدیوں میں ہی نہیں بلکہ باہر کی دنیا میں بھی پیدا ہورہی ہے۔میں اس بات کی مزید وضاحت کرنا چاہتا ہوں تا کہ آپ میری بات سمجھ جائیں۔میری مراد یہ ہے کہ اسلام دشمنی اسی طرح سے ہے، اس کا انداز تبدیل ہو گیا ہے۔اور وہی دشمن نئے ہتھیاروں سے حملہ آور ہو رہا ہے۔ان کی پالیسی بظاہر ذراسی تبدیل ضرور ہوئی ہے مگر اصلیت تبدیل نہیں ہوئی۔پالیسی میں بظاہر نرمی پیدا ہوئی ہے۔دشمن بظاہر اتنے دشمن نہیں رہے اور بعض اوقات وہ دوستی کی آڑ میں گفتگو کرتے ہیں۔یہ مستشرقین کی وہ نئی نسل ہے، جواب ابھر رہی ہے۔مگر میرا گہرا مشاہدہ ہے کہ سوائے دھوکہ اور فریب رہی کے کچھ بھی نہیں بدلا۔وہی لوگ اسی شدت سے اسلام پر حملہ آور ہورہے ہیں۔صرف زبان نرم ہوئی ہے اور طریق کار بدلا ہے اور نام بدل دیا گیا ہے۔ماضی میں جسے زہر کہا جاتا تھا، اب دوا کہا جاتا ہے۔اور اس کے علاوہ کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ماضی میں وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلے عام جھوٹا (نعوذ باللہ ) کہا کرتے تھے۔اب وہ کہتے ہیں کہ آپ جھوٹے تو نہیں، مگر ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ آپ کیا ہیں؟ مگر جب وہ قرآن کریم پر اعتراض کرتے ہیں تو وہ پوری کوشش اس بات کے ثابت کرنے میں صرف کر دیتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کے مصنف ہیں۔اور اللہ تعالیٰ نے آپ سے کلام کیا ہی نہیں۔اور دراصل آپ اچھے مصنف بھی نہیں تھے، (نعوذ باللہ )۔وہ انسانی اقدار میں کمزوریاں تلاش کرتے ہیں۔اس طرح دیگر شعبوں میں بھی کمزوریاں تلاش کرتے ہیں۔اور تضادات اور تبدیلیوں اور بہت سے دوسرے پہلوؤں پر وہ اعتراض کرتے ہیں۔اس سے ان 73