تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 69 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 69

تحریک جدید - ایک الٹی تحریک۔۔ارشادات فرمودہ دوران دورہ یورپ 1982ء ہمارا طریق وہی ہے، جو انبیاء علیہم السلام نے اختیار کیا۔ہم پوری نوع انسانی کو اللہ کے جھنڈے تلے جمع کرنا چاہتے ہیں۔ہم اعتقادات اور نظریات میں مفاہمتوں Compromises پر یقین نہیں رکھتے۔نظریات میں ایسی مفاہمت تو مصنوعی اتحاد کے لئے کی جاتی ہے۔ایسے اتحاد برائے نام ہوتے ہیں اور دیر پا ثابت نہیں ہوتے“۔ایک اخبار نویس نے براہ راست سوال کرتے ہوئے دریافت کیا، چرچ کے ساتھ آپ کے تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی؟ حضور نے جواباً فرمایا:۔وو دو مذاہب ہیں ، جبکہ دونوں اپنی اپنی جگہ ایک خدا کی طرف سے ہونے کے مدعی ہوں ، دشمنی نہیں ہو سکتی۔کوئی مذہب بھی، اگر واقعی وہ مذہب ہے، دوسروں سے دشمنی رکھنا نہیں سکھاتا۔اگر کوئی مذہب دوسروں سے دشمنی کی تعلیم دیتا ہے تو وہ فی الحقیقت مذہب ہے ہی نہیں۔اختلاف عقائد کے باوجود چرچ سے ہمارے تعلقات دشمنی پر بنی نہیں ہو سکتے“۔پوچھا گیا، آج کل یورپ میں مذہب سے بیزاری بڑھ رہی ہے، پھر بھی ہم دیکھتے ہیں، آج کل مختلف مذاہب نے یورپ پر دھاوا بول رکھا ہے، آپ کے نزدیک اس کی وجہ کیا ہے؟ حضور نے فرمایا:۔وو یہ تو صیح ہے کہ یورپ کے لوگوں کی مذہب میں دلچسپی دن بدن کم ہورہی ہے اور بیزاری کا رجحان بڑھ رہا ہے۔اس کے نتیجہ میں یہاں ایک روحانی خلا پیدا ہو گیا ہے۔خلا بھی دیر پا نہیں ہوتا۔مذہب سے بیزاری کے نتیجہ میں وہاں بے راہ روی بڑھ رہی ہے اور ہولناک صورت اختیار کر چکی ہے۔اسی لیئے ساتھ کے ساتھ ایک نئے نظام کی تلاش کا جذ بہ بھی شدت سے ابھر رہا ہے۔مختلف مذاہب کے پیروؤں کی کوشش یہ ہے کہ اس خلا کو وہ اپنے مذہب سے پر کریں۔ہم یقین رکھتے ہیں کہ اسلام ہی اس خلا کو پر کرنے میں کامیاب ہو گا۔اس پر ایک خبار نو میں نے پوچھا سپین میں احمدیوں کی تعداد کتنی ہے؟ حضور نے اس کے جواب میں فرمایا:۔وو پہلی مرتبہ میں 1957 میں پین آیا تھا۔اب تعداد اس سے تین گنا زیادہ بڑھ چکی ہے۔جتنی تعداد میں فلسطین کے اندر مسیح علیہ السلام نے عیسائی بنائے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ ابتداء میں اگر تعداد 69