تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 722 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 722

اقتباس از خطاب فرموده 30 اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک خریدتےاور شوقیہ زمیندارہ کرتے ہیں۔مغربی قوموں میں یہ رواج ہے۔یہ بہت ہی چھوٹا مگر بہت ہی پیارا گاؤں ہے۔بڑے (Intellectual) یعنی صاحب علم و دانش لوگ وہاں رہتے ہیں۔اس کے علاوہ لوگ بڑی کثرت سے وہاں سیر کے لئے جاتے ہیں۔چنانچہ جب ہم مسجد کی جگہ سے وہاں پہنچے تو یہ دیکھ کر ہمیں حیرت ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ سارے کے سارے مدعوین پہنچ گئے تھے اور ان میں سے ایک بھی غیر حاضر نہیں تھا۔ایک طرف بائیکاٹ تھا، مسجد کا مسلمانوں کی طرف سے اور دوسری طرف عیسائی آ رہے تھے، اپنے آپ کو تبلیغ کروانے اسلام کی۔وہاں کھانے کے بعد جو مجلس لگی، وہ اللہ کے فضل سے نہ ،۔صرف بہت دلچسپ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے دل حیرت انگیز طور پر اسلام کی طرف مائل ہو رہے تھے اور وہ اس کا بے اختیار اظہار کر رہے تھے۔چنانچہ اس موقع پر ایک لمبی مجلس سوال و جواب ہوئی، جس میں تمام اہل فکر طبقہ کی طرف سے مختلف رنگ میں سوالات کئے گئے ، جن کے میں نے وہاں جواب دیئے۔جن کا ایک نتیجہ تو وہ تھا، جو اس تقریب میں شامل ہونے والے احباب جماعت کو نظر آرہا تھا اور ان کے دل محسوس کر رہے تھے اور کچھ اظہار ایسے تھے، جو الفاظ میں ہوئے یا موقع پر بعض ایسی باتیں ظاہر ہوئیں، جن سے ہمیں یہ اندازہ ہوا کہ خدا تعالیٰ نے غیر معمولی فضل فرمایا ہے۔ایک صاحب تھے، جو سوال کر رہے تھے لیکن ان کی آواز پوری طرح نہیں آ رہی تھی۔میں نے ان سے کہا کہ میں آپ کی آواز ریکارڈ کرانا چاہتا ہوں، اس لئے آپ سوال کرنے کے لئے یہاں میرے پاس سٹیج پر تشریف لے آئیں۔وہ تشریف لائے تو بڑے سخت پریشان اور گھبرائے ہوئے تھے لیکن جب پاس آئے تو پھر انہوں نے دو سوال کئے اور اطمینان سے بیٹھ گئے۔اور جب میں نے ان کے سوالوں کے جواب دیئے تو کہنے لگے: میرے سوالوں کا جواب مجھے مل گیا ہے۔چنانچہ وہ بڑی تسلی کا اظہار کر کے سٹیج سے چلے گئے تو انہوں نے ایک احمدی دوست کو بتایا کہ میرے ساتھ ایک عجیب واقعہ ہوا ہے۔انہوں نے میرے متعلق بتایا کہ جب میں ان سے دور تھا تو میری طبیعت میں سخت گھبراہٹ تھی لیکن پھر میں جتنا جتنا ان کے قریب ہوتا گیا، میرے دل کو طمانیت اور سکون ملتا چلا گیا اور جب میں ان کے سامنے آیا تو ہرقسم کی بے چینی میرے دل سے دور ہوگئی اور میرا دل کامل طور پر مطمئن ہو گیا۔جتنی دیر میں بیٹھا رہا، میرے دل پر طمانیت کا سایہ رہا اور میں اس کی یاد لے کر واپس آیا ہوں۔یہ اس کے دل کی حالت تھی اور میں اس کو اس لئے بیان کر رہا ہوں کہ اس میں انسانی کوشش کا کوئی دخل نہیں تھا بلکہ یہ اللہ کا فضل تھا، جو آسمان سے نازل ہورہاتھا اور دلوں کو اسلام کی طرف مائل کر رہا تھا۔722