تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 723
اقتباس از خطاب فرمودہ 30اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الهی تحریک۔۔۔جلد ششم وہاں ایک اور صاحب بھی تھے، انہوں نے آخر پر سوال کیا۔پہلے کہا کہ میں لکھ کر سوال کروں گا۔میں نے کہا: ٹھیک ہے، آپ لکھ کر دے دیں۔انہوں نے سوال لکھنے میں کچھ دیر لگائی۔پھر کہا کہ بس میں نے ارادہ چھوڑ دیا ہے، میں نہیں لکھتا۔میں نے ان سے کہا: کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا نہیں، میں یہاں سوال کرنا نہیں چاہتا، میں علیحدگی میں آپ سے وقت لینا چاہتا ہوں اور آپ سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا: ٹھیک ہے، مجلس کے بعد آپ تشریف لائیں، میں آپ کو الگ طور پر وقت دوں گا۔وہ صاحب جب الگ ہوئے تو میرے ساتھ گلے لگ گئے اور کہنے لگے کہ مجھے مجلس میں یہ کہتے ہوئے شرم محسوس ہورہی تھی کہ میں صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ ساری عمر جس شخص کی تلاش رہی ، خدا نے مجھے وہ عطا فرما دیا ہے۔پھر کہنے لگے: میرے دل کی جو کیفیت ہے، وہ میں بیان نہیں کر سکتا۔اب میری صرف ایک درخواست ہے کہ میرے لئے دعا کریں، اللہ تعالیٰ مجھے نیکی کی توفیق عطا فرمائے۔میں نے ان کا پتہ پوچھا، اپنا پتہ ان کو دیا۔بعد میں یہ معلوم کر کے مجھے تعجب ہوا کہ وہ صاحب وہاں کے ٹیلیوژن کے پروگراموں میں آنے والے ایک تھے ، جو عمدا اندھیرے میں چھپ کر بیٹھے ہوئے تھے اور اسی لئے سوال بھی سب کے سامنے نہیں کرنا چاہتے تھے۔انہوں نے بعد میں ایک احمدی دوست کو بتایا کہ یہاں اتنا معروف ہوں کہ اگر میں آجاتا تو لوگوں نے مجھ سے آٹو گراف لینے کی مصیبت ڈال دینی تھی ، اس لئے میں پبلک کے سامنے آنے سے جھجک رہا تھا۔اندھیرے میں پیچھے بیٹھے ہوئے تھے اور وہاں آکر انہوں نے بڑی محبت کا اظہار کیا۔ہمارا پتہ لیا اور بڑی عجیب طمانیت تھی ان پر۔وہ تو دیکھنے والی بات تھی، جو نظر آ رہی تھی ، الفاظ میں بیان کی ہی نہیں جاسکتی۔غرض خدا کا فضل شامل حال رہا۔بعد میں سب نے یہ شکوہ کیا کہ آپ نے تھوڑ اوقت کیوں دیا ہے؟ میں نے کہا: میرا قصور نہیں ہے، انہوں نے اندازہ لگایا تھا کہ ڈیڑھ دو گھنٹے کا وقت کافی ہوگا، اس لئے ہال بک ہی اتنی دیر کے لئے کروایا گیا تھا۔لیکن ان کو شکوہ رہا کہ نہیں ہم تو کئی گھنٹے تک بیٹھ سکتے ہیں۔آپ بے شک خص بیٹھے رہیں، ہم تیار ہیں۔میں نے کہا یہ مجلسیں اللہ تعالیٰ کی توفیق اور فضل کے ساتھ جاری رہیں گی۔دوسرے یا شاید تیسرے دن انہوں نے اپنے میزبان سے مل کر اس عشائیہ کے متعلق باتیں شروع کیں اور اپنے اپنے تاثرات بیان کرنے لگے۔ایک بہت دلچسپ تاثر معلوم ہوا۔میزبان کی ایک بیٹی ہیں، وہ بڑے اخلاص سے خدمت کرتی رہیں۔اس دوران ان کے اندر بڑی پاک تبدیلی پیدا ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ ایک معمر خاتون میرے پاس آئیں اور مجھے یہ کہا کہ میں ان کو فورا نماز سکھانی شروع کروا دوں۔723