تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 720 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 720

اقتباس از خطاب فرمودہ 30 اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جائے گا۔اس کے لئے 27 ایکڑ کا وسیع رقبہ لیا گیا ہے، جو سڈنی کے مضافات میں ایک مشہور قصبہ (Black town) بلیک ٹاؤن کی میونسپلٹی اور اس کی ایک آؤٹ پوسٹ رورسٹون (River stone) کے بالکل درمیان میں واقع ہے۔بلیک ٹاؤن کا قصبہ آگے پھیل رہا ہے۔سکیم منظور ہو چکی ہے، امید ہے، ایک دو سال کے اندر یہ با قاعدہ سڈنی کا ایک حصہ بن جائے گا۔مسجد کی جگہ کھلی اور بڑی پر فضا ہے۔دو بڑی سڑکیں پاس سے گزرتی ہیں۔مسجد کی تعمیر کے لحاظ سے یہ جگہ نہایت ہی با موقع اور مناسب ہے۔20 ستمبر کو مسجد کا سنگ بنیاد رکھا جاتا تھا، اس دن جب ہم وہاں گئے تو یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ جماعت کی توقع کے مقابل پر حاضری بہت تھوڑی تھی۔چنانچہ تعجب تو ہوا لیکن مایوسی مجھے بالکل نہیں ہوئی کیونکہ اتفاق سے یا تصرف الہی کہنا چاہیے، اس مسجد کے سنگ بنیاد کے موقع پر میں نے جو مضمون تیار کیا تھا، اس کی بنیاد ہی اس بات پر تھی کہ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک لق و دق صحرا میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے خانہ کعبہ کی تعمیر نو کی تھی ، اسی طرح ہم آج یہاں مسجد کی بنیاد رکھیں گے۔اور اس یقین کے ساتھ رکھیں گے کہ یہ صحرا بھی خدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت کے ساتھ روحانی آبادیوں میں تبدیل ہو جائے گا۔گو آج اہل آسٹریلیا اس بات سے غافل ہیں کہ یہاں ایک واقعہ ہو رہا ہے لیکن کل کی نسلیں حسرت کے ساتھ یاد کیا کریں گی کہ کاش ہم ہوتے اور ہم اس تقریب میں شامل ہوتے۔پس جو مضمون تھا ، حالات بعینہ اس کے مطابق ظاہر ہوئے۔مقامی جماعت تو بڑی سخت شرمندگی محسوس کر رہی تھی اور میں ان کو تسلیاں دے رہا تھا۔میں نے کہا: آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ یہ اللہ کا فضل ہے اور اسی میں مجھے اللہ کی ایک تقدیر کارفرما نظر آ رہی ہے۔اور جہاں تک خدا کی تقدیر کا تعلق ہے، تبلیغ اسلام کے معاملہ میں، وہ بھاری رہے گی۔آپ بالکل مطمئن رہیں، اللہ تعالیٰ ضرور موقعے عطا فر مائے گا۔بہر حال مقامی جماعت نے جو عذر پیش کیا، وہ یہ تھا کہ غیر از جماعت مسلمانوں کو بڑی کثرت سے دعوت دی گئی تھی اور انحصار کیا گیا تھا کہ وہی اس تقریب میں زیادہ شامل ہوں گے۔لیکن اس کے مقابل پر بعض بین الاقوامی تنظیمیں ، جو گویا جماعت کی مخالفت کی خاطر بنائی گئی ہیں، انہوں نے بڑا روپیہ خرچ کیا اور بڑی محنت کی۔یہاں تک کہ تقریباً پچاس ہزار مسلمان باشندوں کو ، جو آسٹریلیا میں رہتے ہیں ، خطوط بھی لکھے اور لٹریچر بھی بھجوایا، مساجد میں خطبے بھی دیئے گئے اور پوسٹر بھی لگائے گئے کہ کوئی مسلمان اس تقریب میں شامل نہ ہو ورنہ وہ مسلمان نہیں رہے گا۔یعنی خدا کا گھر بنایا جارہا ہے، اس لئے سارے تو بہ اور استغفار کریں اور اس گھر کے قریب نہ پھٹکیں۔چنانچہ اس پروپیگنڈہ سے متاثر ہونے والے اس حد تک متاثر ہوئے کہ بعض احمدی نہ 720