تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 690 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 690

اقتباس از خطاب فرمودہ 22 اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک کرانا، سب سے بڑا مسئلہ ہے۔کیونکہ اس میں ظاہری طور پر چمک پائی جاتی ہے۔ظاہری طور پر جو وقتی قدم ہے، وہ یقینا سہولت کا اٹھتا ہے۔اس لئے ہماری مستورات، جو ایک دفعہ مغربی سوسائٹی سے متاثر ہو جاتی ہیں، انہیں واپس کھینچ لانا، ایک بہت بڑا کام ہے۔انہیں بڑی مشکل سے سمجھانا پڑتا ہے، انہیں بتانا پڑتا ہے کہ آپ کے لئے زیادہ عزت، زیادہ سکون، زیادہ اطمینان اسلامی تعلیم کے دائرے میں رہنے سے ہے۔اس پہلو سے میں لجنہ کو خاص طور پر ایک ایسے سوال کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں، جو بار بار مختلف صورتوں میں میرے سامنے رکھا گیا ہے۔بہت سی کارکنات، جو اس معاملے میں بہت کوشش کر رہی ہیں کہ اسلامی تہذیب کو رائج کریں اور ان خواتین کو جو احمدیت سے بھی تعلق رکھتی ہیں لیکن بدقسمتی سے رفتہ رفتہ مغرب زدہ ہو گئیں۔انہیں واپس کھینچ کر لائیں۔ایسی کارکنات کی طرف سے کئی صورتوں میں مجھ سے سوال ہوا ہے کہ فلاں نہیں مانتی اور فلاں نہیں مانتی ، اس لئے بتائیں کہ ہم کیا کریں؟ جہاں تک سوال کا تعلق ہے، یہ جائز ہے۔لیکن اس سوال کے پیچھے میں نے بعض دفعہ غصہ کے سختی کے آثار پائے۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ کارکنات یہ چاہتی ہیں کہ ہمیں کوئی جبر کا پروانہ پکڑاؤ کیونکہ یہ عورتیں باتوں سے نہیں مانتیں یا ان کا اخراج جماعت کر دیا مقاطعہ کر دیا ان پر بہت سختیاں کرو اور انہیں خوب کھلی کھلی سناؤ تا کہ کچھ ہمارے دل ٹھنڈے ہوں، کچھ ان کے دل جلیں اور ان کو پتہ تو چلے کہ جن کا انکار کیا کرتی تھیں، ان کا بھی کوئی طرفدار ہے۔تو یہ وہ روح ہے، جو پسندیدہ نہیں ہے۔مجھے آپ کی تربیت کے لئے ہر بار توجہ دلانی پڑتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل اپنائے بغیر تربیت نہیں ہو سکتی۔وہ دل سختی کا دل نہیں تھا، وہ دل غصے اور نفرت کا دل نہیں تھا۔وہ دل ایک دردمند دل تھا، جس کا نام رحمۃ للعالمین رکھا گیا۔پس جب تک آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل اختیار نہیں کرتیں، اس وقت تک آپ صحیح معنوں میں ناصح بنے کی اہل نہیں بنتیں۔اس لئے سختی کی طرف مائل نہ ہوں۔بعض اوقات ہوسکتا ہے کہ انتظامی اقدامات بھی کرنے پڑیں۔لیکن سختی کے نتیجہ میں نہیں بلکہ وہ بھی دردمندی کے نتیجہ میں ہوں گے۔اس لئے نہیں کہ بعض عورتوں کو ہم کہیں گے کہ اچھا تم نہیں مانتیں تو پھر جبر ہے اور ہم تمہیں نکال کر باہر کریں گے۔اس کے پیچھے ہر گز یہ روح نہیں ہوگی۔بلکہ مجبور شاید ایک ایسا وقت آئے کہ یہ روح اس کے پیچھے کام کرے کہ ہماری وہ بچیاں ، جو صحیح فطرت ہیں اور باتیں مانتی ہیں ، ان پر بعض لوگوں کا یہ اثر پڑ رہا ہے اور انہیں بچانے کی خاطر یہ بہت ہی مجبوری در پیش ہے کہ اب انہیں اپنی سوسائٹی سے الگ کر دیا جائے ، جو بداثر ڈالنے والیاں ہیں۔اس نقطہ نگاہ سے کہ شاید یہ 690