تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 691 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 691

اقتباس از خطاب فرموده 22 اکتوبر 1983 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک اقدام ان کے دلوں میں تبدیلی کا موجب بن جائے اور انہیں ہلا کر رکھ دے۔اس لئے بعض دفعہ اس نوع کی اصلاحی کاروائیاں اس خیال سے بھی کرنی پڑتی ہیں۔لیکن جو کرتا ہے، اس کا بھی دل دکھتا ہے۔بلکہ بعض اوقات زیادہ دکھتا ہے۔میرا تجربہ ہے کہ بعض اوقات جنہیں نکالا گیا ہے، ان کے دل کم رکھتے ہیں اور جو نکالنے والا ہے، اس کا دل زیادہ دکھتا ہے۔تو یہ فعل آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ کے تابع ہی ہوتا ہے۔اگر نہ ہو تو اس میں کوئی برکت نہیں پڑ سکتی۔پس آپ میں سے، جو نصیحت کا علم بلند کر رہی ہیں اور اس سلسلہ میں بہت محنت کر رہی ہیں، میں جانتا ہوں کہ انہیں دن رات یہی دھن سوار ہے کہ ہم کسی طرح احمدی عورتوں کی تربیت کریں اور ان کو مغربیت کے اثر سے بچا کر واپس لے آئیں، انہیں میں کہتا ہوں کہ حوصلہ، ہمت اور صبر سے کام کریں۔نصیحت کریں اور اس نصیحت میں محبت اور پیار شامل کر دیں۔تو اس طرح آپ کی نصیحت ، پیار، محبت اور سادگی کے ساتھ قوت پا جائے گی۔نصیحت میں صرف ان کی محبت نہ ڈالیں بلکہ اس میں اپنے اللہ کی محبت ڈال دیں اور اللہ کا تقوی شامل کر دیں۔پس یہ وہ چیزیں ہیں، جونصیحت کو غیر معمولی قوت عطا کر دیتی ہیں۔بڑی بڑی پڑھی لکھی تعلیم یافتہ عورتوں کی بات جہاں ضائع چلی جاتی ہے، جہاں بے نتیجہ ثابت ہوتی ہے، وہاں متقی اور خدا سے محبت کرنے والی عورت کی زبان بہت زیادہ قوی ثابت ہوتی ہے اور دل پر بہت زیادہ اثر رکھنے کی طاقت رکھتی ہے۔چنانچہ مجھے یاد آیا کہ چور ہدری ظفر اللہ خان صاحب نے اپنی کتاب ”میری والدہ میں یہ واقعہ بیان کیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے والدہ سے یہ سوال کیا کہ ہم تو بڑی لمبی لمبی تقریریں کرتے ہیں اور کافی دلائل دیتے ہیں اور سرکھپاتے ہیں مگر ہماری بات کا اتنا اثر نہیں ہوتا، جتنا آپ کے چند کلموں کا ہو جاتا ہے۔مجھے بھی یہ راز بتائیں کہ آخر کیا بات ہے؟ کیا طاقت ہے، آپ کی بات میں؟ جس کی وجہ سے آپ کی بات جلدی اثر کر جاتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے لوگ آپ کی بات کا اثر قبول کر کے احمدیت میں داخل ہوتے ہیں۔تو ان کی والدہ نے انہیں کہا کہ بیٹا! میں تو لاعلم عورت ہوں، میں تو کچھ بھی نہیں جانتی۔کوئی علم مجھے نہیں ہے لیکن میرے پاس دو باتیں ہیں، میں تو انہی کی قوت سے کام کرتی ہوں۔ایک خدا کا تقوئی ہے اور دوسرے اللہ کی محبت ہے۔مجھے پتہ نہیں کہ یہ کس طرح اثر کرنے والی چیزیں ہیں؟ لیکن میرے پاس صرف یہی دو چیزیں ہیں ، اس کے سوا میرے پاس کوئی چیز نہیں۔حقیقت یہی ہے کہ جب یہ دو ہتھیار نصیحت کرنے والے میسر آجائیں تو یہ ہتھیار کبھی ناکام نہیں ہوا کرتے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھی تو یہی ہتھیار تھے، آپ تو امی تھے، دنیا کے علم سے تو 691