تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 647
تحریک جدید - ایک الہی تحریک اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 اکتوبر 1983ء ہیں؟ پھر اس پر بھی تسلی نہ ہوئی تو انہوں نے کہا: ہم آپ کی بیگم صاحبہ کا بھی انٹرویو لینا چاہتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے بیگم صاحبہ کا بھی انٹرویو لیا۔پس یہ سامان کس نے کیا تھا؟ میں نے تو نہیں کیا تھا۔نہ میرے اندر طاقت تھی اور نہ ہمارے حسین احمدیوں میں تھی، جو بے چارے دینی لحاظ سے بہت کمزور ہیں۔وہ چند ہزار کی تعداد میں ہیں، کوئی دنیوی طاقت انہیں حاصل نہیں۔محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔اس نے طاقت عطا فرمائی۔سارے نبی کو اردو میں بھی اور انگریزی میں بھی احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا پیغام پہنچانے کی توفیق عطافرمائی۔اور بھی بہت سے نشان، بڑے دلچسپ واقعات ہیں، جن کا ذکر انشاء اللہ بعد میں اجتماعات پر کروں گا۔پھر جلسہ سالانہ ہے، اس میں بھی ذکر چلے گا۔یہ لمبی باتیں ہیں۔میں نے جیسا کہ بیان کیا ہے، یوں معلوم ہوتا تھا کہ تھوڑے سے وقت کے اندر واقعات اس طرح اکٹھے ہو گئے ہیں، جس طرح کہتے ہیں کہ کھوے سے کھوا چھلتا ہے۔یعنی کندھے سے کندھا ملا کر ایک جلوس جارہا ہوتا ہے، اس طرح واقعات ایک دوسرے سے مل کر چل رہے تھے۔یوں معلوم ہوتا تھا، ایک مودی پلیٹ فارم (Movie Plat Form) ہے۔ایک حرکت کرنے والا پہیہ ہے، جس پر ہم سوار ہو گئے ہیں۔ایک طرف سے ڈوبے ہیں، دوسری طرف سے کراچی پہنچ گئے ہیں۔اور اس سارے عرصہ میں واقعات کا ایک مسلسل جلوس تھا، جو ایک دوسرے کے ساتھ جاری رہا۔میں بھی اور میرے ساتھی بھی اس حال میں واپس لوٹے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی حمد سے ہمارے سینے معمور ہیں اور زبانوں پر خدا تعالیٰ کی حمد کا ایک نہ ختم ہونے والا سمند ر جاری ہے۔پس میں آپ کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ اپنے سینوں کو اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تحمید سے بھر دیں۔یہی تسبیح اور تحمید ہے، جواب ہمارے کام آئے گی۔ورنہ اس کے بغیر یہ فتح اور نصرت ہمارے ہاتھوں سے ضائع ہو سکتی ہے۔اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے استغفار کا حکم دیا ہے۔کیونکہ انسان اللہ تعالیٰ کی کما حقہ تسبیح اور تحمید نہیں کر سکتا۔اگر چہ وہ اپنی طرف سے تسبیح و تحمید کا پورا پورا حق ادا کرتا ہے۔پھر بھی بعض غلطیاں رہ جاتی ہیں۔اس لئے تسبیح اور تحمید کے ساتھ ہی فرمایا: تم عجز کے ساتھ استغفار بھی کیا کرو۔فتح و نصرت ملنے کے بعد خدا کے حضور یہ عرض کیا کرو کہ اے اللہ ! یہ سب کچھ کرنے کے باوجود ہمیں یہ پتہ ہے کہ اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا تو ہم بخشے جانے کے لائق نہیں ٹھہریں گے۔ہم محض تیری بخشش کے سہارے زندہ ہیں۔ہم اس امید پر زندہ ہیں کہ جب تیرے حضور حاضر ہوں گے تو اے خدا تو ہم پر رحمت اور شفقت کی نظر کرے گا اور بخشش کی نگاہ ڈالے گا۔ورنہ یہ فتوحات جو تو نے ہمیں عطا کی تھیں، ہم ان کا حق ادا کرنے کے لائق نہیں۔اس جذبے کے ساتھ دوست جب اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تحمید کریں گے اور استغفار کریں گے اور رب 647