تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 646 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 646

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک پس اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے راستے کھولتا رہا ہے اور جتنی مخالفت ہوئی ہے، اتنا فائدہ پہنچا ہے۔کیونکہ اس وقت جو غیر قوموں والے تھے ، وہ حج بن کر بیٹھ گئے تھے۔جب مقابلہ شروع ہوا تو وہ دیکھ رہے تھے کہ کون آدمی معقول باتیں کر رہا ہے اور کون کج بحثی کر رہا ہے؟ کون انصاف کی بات کر رہا ہے اور کون ضد کر رہا ہے اور لغو باتیں کر رہا ہے؟ چنانچہ سب حاضرین پر احمدیت کا ایک بہت ہی پیارا تاثر پیدا ہونا شروع ہو گیا اور جو غیر مبائعین شامل ہوئے تھے، وہ اس کے نتیجہ میں بڑی تیزی کے ساتھ ہماری طرف مائل ہوئے۔انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہم سے تعلق قائم کیا۔اب یہ بات عام ہوگی تو یہاں کے غیر مبائعین بڑے کی گھبرائیں گے اور پریشان ہوں گے کہ ان کے شاید گنتی کے کچھ لوگ وہاں موجود ہیں، وہ بھی ہاتھ سے جاتے نہ رہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل کیا تو ان کے ہاتھ سے جاتے رہیں گے۔کیونکہ میں ان کی آنکھوں میں محبت اور تعلق اور سمجھ کے آثار دیکھ کر آرہا ہوں۔مجھے یہ نظر آ رہا ہے کہ ان کے دل مائل ہو چکے ہیں۔پس یہ ایک دن کی مجلس تھی، جس میں ہم نے خدا تعالیٰ کے بڑے فضل دیکھے، غیر معمولی تائید دیکھی ، نصرت دیکھی اور دلوں کو احمدیت کی طرف مائل ہوتے دیکھا۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہاں اسی شہر میں اپنے احمدی دوستوں کے ساتھ جو مجالس ہوئیں، ان کے نتیجہ میں دیکھتے دیکھتے یوں لگتا تھا کہ احمدیوں کی کایا پلٹ رہی ہے۔جب ہم وہاں پہنچتے ہیں تو اور قسم کے چہرے دیکھتے تھے، پھر جب ناندی سے روانہ ہورہے تھے تو کچھ اور قسم کے چہرے ظاہر ہو چکے تھے۔ان میں عزم تھا، ان میں ارادے تھے۔نہ صرف یہ بلکہ انہوں نے خود ملاقاتوں اور مجالس میں کھل کر کہا کہ ہوگیا، جو ہونا تھا۔غفلت کی جو حالت تھی، وہ گزرگئی۔اب ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آج سے ایک مبلغ کی طرح اپنی زندگیاں وقف رکھیں گے۔ہمارے دل میں خدمت اسلام کا ایک غیر معمولی جذبہ پیدا ہو چکا ہے۔ہم اسلام کی تبلیغ کریں گے اور ہر طرف خدا کا پیغام پہنچائیں گے۔یہ پاک تبدیلیاں اللہ تعالیٰ پیدا فرمارہا تھا۔ایسی صورت میں کوئی بڑا ہی بے وقوف اور جاہل ہوگا، جو یہ سمجھے کہ اس میں اس کی کوششوں کا دخل ہے۔اس میں کسی انسانی کوشش کا دخل نہیں محض اللہ تعالیٰ کے احسانات ہیں۔چنانچہ چین پر یس کے نمائندے پہنچ گئے۔حالانکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے، دوسروں کا پر لیس کے اوپر بھی بڑا اثر تھا۔لوگ پریس کے نمائندوں کو روکتے تھے کہ ان کی باتیں نہیں سنتیں۔لیکن اس کے باوجود پریس پہنچا اور بہت اچھا Coverage یعنی اخباری خبریں دیں۔صرف یہی نہیں، ریڈیو نجی نے اردو میں بھی اور انگریزی میں بھی قریباً ایک گھنٹے کا انٹرو یولیا اور پھر نشرکیا اور اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کی کہ لوگ انہیں کیا کہتے 646