تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 642 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 642

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 14 اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک البی تحریک جلد ششم وسیع طور پر تعلق قائم ہو تو ان کی بدیوں کو رد کرنے والے ہوں اور اپنی بدیوں کو پہلے دور کر دینے والے ہوں۔یا استغفار کرتے ہوئے کم از کم ایسا انتظام کریں کہ وہ بدیاں ان میں داخل نہ ہوں۔پھر حمد کے ترانے گائیں، اپنے اندر خوبیاں پیدا کریں، اسلامی تعلیم پر عمل پیرا ہو کر اس دنیا میں جنت پیدا کریں۔اکثر لوگ مجھ سے یہ پوچھتے ہیں کہ کیا وہ Utopia (یو پیا یعنی مثالی معاشرہ ) جولوگوں کے تصور میں ایک خواب ہے ، ایک کہانی ہے کہ دنیا میں ایک عظیم الشان سنہری زمانہ آ جائے گا، جس میں ہر طرف امن ہو گا اور انسان اس جنت کو پالے گا، جس کی خاطر غالبا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔تو میں ان سے کہا کرتا ہوں کہ وہ جنت تو قریب آ رہی ہے، وہ اسلام کی فتح ہی کی جنت ہے۔مگر اس کے لئے ہر احمدی کو زبر دست تیاری کرنی پڑے گی۔اسی طرح ہر احمدی کو پھر حمد کے مضمون میں بھی داخل ہونا پڑے گا۔اس ارادے کے ساتھ کہ خدا کی خاطر مجھ پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، ان کو ادا کرنے کے لئے مجھے اپنے خیالات کو درست کرنا ہے، اپنے اخلاق کو سنوارنا ہے، اپنی عادات کو سنوارنا ہے، اپنے مزاج کو سنوارنا ہے۔اور یہ سب روز مرہ کی زندگی کے ساتھ تعلق رکھنے والے واقعات ہیں۔یہ کوئی فرضی حمد نہیں ہے کہ آپ نماز میں چند منٹ کے لئے تصوراتی حمد کرلیں اور پھر باہر آ کر بھول جائیں کہ آپ نے کیا کہا تھا۔حالانکہ تسبیح و تحمید کا مضمون اور برائیوں کو دور کرنے کا مضمون تو روز مرہ کی زندگی میں داخل ہو جاتا ہے۔وہ خوابوں میں بھی ساتھ رہتا ہے، اٹھنے کے وقت بھی ساتھ رہتا ہے۔جس وقت آپ کھانا کھا رہے ہوتے ہیں، اس وقت بھی ساتھ ہوتا ہے۔جس وقت آپ وضو کر رہے ہوتے ہیں، اس وقت بھی ساتھ ہوتا ہے۔جس وقت آپ معاملات کر رہے ہوتے ہیں، اس وقت بھی ساتھ ہوتا ہے۔بیوی بچوں کے تعلقات میں بھی اور غیروں کے تعلقات میں بھی ساتھ ہوتا ہے۔غرضیکہ ہر روز انسان کی زندگی میں ایسے بے حد اور بے انتہا مواقع نظر آتے ہیں، جہاں وہ اپنی بعض برائیاں دور بھی کر سکتا ہے، اگر وہ بیدار مغزی کے ساتھ اپنا مطالعہ کرے۔اور بعض وہ خوبیاں اپنے اندر پیدا کر رہا ہوتا ہے۔مثلاً بول چال میں بداخلاقی کو چھوڑ دیتا ہے، کلام میں تیزی اور مزاج میں درشتی کو نرمی میں بدل دیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ آج میں نے یہ برائی چھوڑ دی ہے، اب میں نے وہ برائی چھوڑ دی ہے۔اس طرح جب وہ خدا کی حمد کے گیت گائے گا اور اس کی صفات کے مضمون میں ڈوبے گا تو الہی صفات کے رنگ پکڑنا شروع کر دے گا اور اس طرح اخلاق کو درست کرنے کا اس سے بہتر طریق اور کوئی نہیں“۔منی میں جماعت احمدیہ کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔غیر از جماعت مسلمانوں کی تعداد ہمارے مقابل پر نہ صرف بہت زیادہ ہے بلکہ وہ مؤثر بھی ہے۔اور اتنے مؤثر ہیں کہ نہ صرف وہ نجی کی 642