تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 643 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 643

تحریک جدید - ایک البی تحریک جلد ششم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 14 اکتوبر 1983ء موجودہ حکومت کے ساتھ ہیں بلکہ ہمیشہ ہی وہ حکومت کے ساتھ رہتے ہیں۔اور ان کا لازماً ایک وزیر ہوتا ہے۔وہ محبین قوم ہے اور اس وقت وہاں حکومت کرتی ہے۔ان کو اسلام کا کچھ پتہ نہیں۔تفریق کا کوئی علم نہیں اور فرقوں کی تقسیم کا کوئی پتہ نہیں۔وہ اپنا جو کچھ تاثر لیتے ہیں، ان مسلمانوں سے لیتے ہیں۔اگر کوئی مسلمان کہلائے گا تو وہ ان سے پوچھیں گے کس قسم کا ہے؟ اس کو منہ لگا نا چاہئے یا نہیں لگانا چاہئے۔ان حالات میں نبی کے احمدی بھی پریشان تھے اور میں بھی فکر مند تھا لیکن مایوس نہیں تھا۔مجھے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسے انتظام کرے گا کہ وہاں تبلیغ کے راستے کھول دے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ناندی میں جہاں ہم نے پہلے دن ہوائی جہاز سے باہر قدم رکھا، وہاں کے میٹر ائیر پورٹ پر تشریف لائے۔اور اس لحاظ سے انہوں نے بڑے خلق کا مظاہرہ کیا۔اور اس کے بعد دوسرے دن ان کی دعوت پر ہم Civic Center پر لیکچر کے لئے بھی گئے۔اس اثناء میں اتنی تفصیل سے جماعت کی مخالفت میں تنظیم قائم کر دی گئی تھی کہ ایک ایک مسلمان کو یہ پیغام پہنچایا گیا تھا کہ تم نے احمدیوں سے کلیتہ بائیکاٹ کرنا ہے، ان کے کسی جلسے میں شامل نہیں ہونا۔اور پھر غیر مسلم مین کو بھی ڈرایا جارہا تھا اور ان کو بھی روکا جارہا تھا لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا ہوا تھا اور جیسا کہ میں نے کہا ہے ، جب مالک فیصلہ کر لے تو جو مالک نہیں ہے، اس کا بس نہیں چلتا۔بے چارے کی خواہش ہی رہ جاتی ہے، ایک حسرت رہ جاتی ہے، وہ کچھ کر نہیں سکتا۔چنانچہ ہم نے دیکھا کہ ان لوگوں کے لئے بے بسی کا ایسا عالم تھا کہ باقیوں کو تو چھوڑو، وہاں کے ایک بہت بڑے لیڈر، جن کا میں اس وقت مصلحتا نام نہیں بتانا چاہتا، ان کی بیٹی بھی تقریر سننے کے لئے وہاں پہنچ گئی اور وہ شدید مخالف ہی نہیں تھی بلکہ اس نے پورا مطالعہ کیا ہوا تھا اس لٹریچر کا، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق بالکل غلط تاثرات بلکہ نہایت ہی خوفناک تاثرات قائم کرتا ہے۔اس نے اپنے والد سے کتابیں لے کر ان کا بڑا گہرا مطالعہ کیا ہوا تھا۔وہ بھی اس مجلس میں موجود تھیں۔جیمز بھی تھے اور غیر از جماعت مسلمان بھی تھے۔اگر چہ بائیکاٹ تھا لیکن بعض علماء نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم اپنے ساتھیوں کو لے کر وہاں پہنچیں گے اور ایسے اعتراض کریں گے کہ ان کی کوئی پیش نہیں جائے گی۔اور یہ بھی کہ ہم ان کو ذلیل و رسوا کر دیں گے۔چنانچہ ایسے ہندوستانی علماء جو دینہ یونیورسٹی کے پڑھے ہوئے اور بڑے چوٹی کے علماء تھے ، وہ اپنے شاگردوں اور ساتھیوں کو لے کر وہاں پہنچے اللہ تعالیٰ کے فضل سے تقریر ہوئی اور پھر جب سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو احمدیت تو خدا کے فضل سے صداقت ہے، اس کے لئے کسی خوف کا سوال ہی نہیں۔بھلا روشنی بھی کبھی اندھیرے سے ڈرتی ہے۔میں تو ان کو صاف اور کھل کر بتا تارہا ہوں کہ اگر ہم روشنی 643