تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 638 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 638

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 14 اکتوبر 1983ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک مبالغہ نہیں کہ اس دورے میں کئی ہزار دوستوں سے گہرا تفصیلی تعلق قائم ہوا، محبت کے رشتے قائم ہوئے، بچوں کے ساتھ بھی، بڑوں کے ساتھ بھی اور ہم نے ایک دوسرے کو قریب سے دیکھا اور سمجھا۔پس باقی ساری باتیں اگر چھوڑ بھی دیں ، تب بھی صرف یہی پہلو بہت وزنی ہے۔اور اتنی مصروفیت رہی ملاقاتوں کے لحاظ سے ہی کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ سفر پر نکلے ہوئے مدتیں گزر گئی ہیں۔فلم کی طرح چہرے سامنے آتے رہے اور پھر چہروں سے آگے بات بڑھی اور روحوں سے شناسائی ہوئی محبت اور مودت کے تعلقات قائم ہوئے۔ان کا بھی ایمان بڑھا، ان کو دیکھ کر اور مل کر میرے ایمان میں بھی رونق آئی۔پس اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرا اور میرے ساتھیوں کا سارا وقت بہت مصروف رہا۔اور اس احسان کا ہم جتنا بھی شکر ادا کریں، کم ہے۔زبان میں طاقت نہیں کہ کما حقہ شکر ادا کر سکے۔مگر یہ صرف میرے لئے شکر کا مقام نہیں ہے بلکہ ساری جماعت کے لئے شکر کا مقام ہے۔کیونکہ میں اپنی ذاتی حیثیت میں تو یہ دورہ نہیں کر رہا تھا۔نہ میرے ساتھی ذاتی حیثیت میں میرے ساتھ تھے۔اللہ تعالیٰ کے احسانات ساری جماعت پر ہیں۔جیسا کہ میں نے گزشتہ سفر میں واپسی پر کہا تھا: مجھے تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ احباب جماعت کی دعائیں قبول ہو کر پھل بن کر ہم پر نازل ہورہی ہیں اور خدا کی رحمت آتی ہوئی نظر آتی تھی۔یوں لگتا تھا کہ جس طرح کوئی توقع نہیں ہے۔اچانک غیب سے دست قدرت آتا ہے اور وہ مددکر دیتا ہے۔تو از ما اس میں ساری جماعت شامل ہے۔خلیفہ اور جماعت دو الگ وجود نہیں۔بلکہ ایک ہی وجود کی دو حیثیتیں اور دو نام ہیں۔اس لئے صرف میرے لئے نہیں بلکہ ہم سب پر اللہ تعالیٰ کا شکر واجب ہے۔اس نے اپنے فضل سے ہم پر بہت بڑے احسانات فرمائے ہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، ایک مجلس میں یا کئی مجالس میں بھی یہ تفصیلی باتیں تو بیان نہیں ہوسکتیں۔اس لئے میں نے سوچا ہے کہ آج آپ کو نبی سے متعلق کچھ باتیں بتاؤں۔تو ایسی باتیں، جن کو سن کر آپ کے اندر ذمہ داریوں کے احساس بھی بیدار ہوں اور دین کے لئے پہلے سے بڑھ کر خدمت کا جذبہ پیدا ہو اور مستقبل میں آپ دیکھیں کہ ہمارے سامنے کیا کیا ذمہ داریاں آ رہی ہیں، ان کو سنبھالنے کے لئے آئندہ تیاری کرنی پڑے گی۔چنانچہ جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے، ان کا اسی موقع سے تعلق ہے۔إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِيْنِ اللَّهِ أَفْوَاجًان کہہ کر اللہ تعالیٰ نے ایک خوشخبری دی ہے۔فرمایا: ایسا وقت آنے والا ہے کہ لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوں گے اور خدا کی طرف سے فتح آئے گی اور خدا کی طرف سے نصرت ملے گی۔638