تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 623
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم خطاب فرمودہ 10 اکتوبر 1983ء ہیں۔ہم میں سے ہوتے ہوئے بھی اب یہ ہم جیسے نہیں رہے۔ان کے اندر کچھ ایسی تبدیلیاں پیدا ہوگئی ہیں، جو عام دنیا والوں میں دکھائی نہیں دیتیں۔یہ عجیب بات ہے، جود نیا میں ظاہر ہوتی ہے کہ وہ لوگ جو دنیا کے لحاظ سے جاہل ہوتے ہیں، جن کو علم نہیں ہوتا ، وہ جب خدا کی محبت میں سرگرداں ہوتے ہیں تو محبت الہی ان کو ایسا علم عطا کرتی ہے، ان کو ایسی معرفت عطا کرتی ہے کہ وہ ساری دنیا کے استاد بن جاتے ہیں۔تاریخ اسلام کو اٹھا کر دیکھیں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس ملک میں اور کس زمانہ میں پیدا ہوئے تھے ؟ آج سے چودہ سو سال پہلے جبکہ ساری دنیا میں جہالت کا دور دورہ تھا، اس وقت سب سے زیادہ جاہل ملک یعنی عرب میں آپ پیدا ہوئے۔پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے لیکن ایک چیز تھی، جو آپ کو سب سے زیادہ عطا ہوئی تھی۔اور وہ تھی اللہ تعالیٰ کی محبت۔وہی محبت آپ کی قوت بھی بن گئی۔اس نے آپ کے لئے ایسا عظیم انشان معجزہ دکھایا کہ آپ کی قوم دنیا میں سب سے طاقتور بن گئی۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جہالت کے گہوارے میں پیدا ہونے والے لوگ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کی برکت سے دنیا کے معلم بن گئے۔اور دنیا میں علم و ہدایت کا چشمہ مکہ سے پھوٹنے لگا۔اللہ تعالیٰ کی محبت میں ان کو صرف دینی اور روحانی علوم ہی عطا نہیں کئے گئے بلکہ دنیوی علوم میں بھی ان کو دنیا کی باقی قوموں پر فضیات عطا کی گئی۔اور ایک وقت ایسا تھا کہ دنیا دین سیکھنے کے لئے ہی نہیں بلکہ دنیا کے علوم سیکھنے کے لئے بھی اسلامی دنیا کی طرف رخ کرتی تھی۔پس یہ الہی محبت ہے، جو ہر رنگ اختیار کر لیتی ہے۔انسان کو جس چیز کی ضرورت ہو، اللہ کی محبت اس کے لئے وہی چیز بن جاتی ہے۔خدا کی راہ میں جو دکھ اٹھانے پڑتے ہیں، یہ اللہ کی محبت ہی ہے، جو ان دکھوں میں پہنچنے والے زخموں کی مرہم بن جاتی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی محبت ہی ہے، جو انسان کے لئے شفا بن جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی محبت دیکھوں کا مدادا بن جاتی ہے، دکھوں کو لذتوں میں بدل دیتی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام اللہ کی محبت کی تعریف کرتے ہوئے اپنے ذاتی تجربہ کی بنا پر فرماتے ہیں:۔اے محبت عجب آثار نمایاں کر دی زخم و مرہم برہ یار تو یکساں کر دی اے محبت تو عجیب آثار دکھا رہی ہے، تو نے حیرت انگیز کرشمے دکھا دیئے۔یہاں تک کہ میرے محبوب کے رستے میں لگنے والے زخموں کو اور مرہم کو تو نے ایک ہی چیز بنا دیا ہے۔خدا کے رستے میں جو زخم اٹھانے پڑتے ہیں، وہ زخم زخم نہیں بلکہ مرہم بن جاتے ہیں۔دنیا ان لوگوں کو پہچان نہیں سکتی۔وہ بھی مجبور 623