تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 624 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 624

خطاب فرموده 10 اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم ہے۔کیونکہ ان کی نظر میں یہ دیوانے ہیں۔ظاہر ہے، وہ لوگ جو زخم کھا کر لذتیں پارہے ہوں، ان کو دنیا کیسے پہچان سکتی ہے؟ اسی لئے دنیا ان لوگوں کو دیوانہ اور پاگل کہتی ہے۔انبیا علیہم السلام کو اپنے رب کریم سے سب سے زیادہ محبت ہوتی ہے۔اس لئے سب سے زیادہ انہی کو دیوانہ کہا جاتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس محبت کا نام دیوانگی بھی رکھتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تا نه دیوانه شدم ہوش نیا مد بسرم اے جنوں گرد تو گردم کہ چہ احسان کر دی جب تک میں اپنے رب کی محبت میں دیوانہ نہیں ہو گیا، مجھے کوئی ہوش نہیں تھا۔مجھے تو عقل ہی خدا کی محبت میں دیوانہ ہونے کے نتیجہ میں آئی ہے۔اے عشق الہی کے جنون ! اور اے محبت کی دیوانگی!! میں تو تیرے گرد طواف کرتا ہوں۔تو نے مجھ پر عجیب احسان کیا ہے کہ دیوانگی کے نتیجہ میں مجھے فرزانگی اور عقل عطا کر دی ہے۔اگر ہم دنیا پر ذرا نظر دوڑا کر دیکھیں تو یہ بات معلوم کرنی مشکل نہیں کہ محبت بظاہر ہر جگہ ایک ہی طرح کے اثر دکھاتی ہے۔اور دنیا کی محبت والے بھی دیوانے ہو جایا کرتے ہیں۔مجنوں کے متعلق یہ قصہ مشہور ہے کہ وہ شہروں کو چھوڑ کر صحراؤں میں بس گیا۔وہ محبت ہی کی دیوانگی تھی ، جس نے اسے شہروں کی بجائے صحرانوردی پر مجبور کیا۔لیکن یہ مشابہت بس اتنی ہی ہے، اس سے آگے نہیں بڑھتی۔اس کے بعد ان دونوں محبتوں میں بڑی نمایاں تبدیلی پیدا ہوتی ہے، ان کے اثرات بالکل مختلف ہوتے ہیں۔مجنوں کی طرح خدا کی محبت کرنے والوں کے متعلق بھی ہمیں علم ہے کہ انہوں نے شہروں کو چھوڑا اور صحرا میں چلے گئے۔لیکن ان کے لئے پھر صحر اشہر بنا دیئے گئے۔جب کہ دنیا کی محبت کرنے والوں کے صحرا صحرا ہی رہے اور وہ ان صحراؤں میں کھو گئے اور ان کا کوئی نشان باقی نہیں رہا۔پس ایک مجنوں تو وہ ہے، جو دنیا کا مجنوں تھا۔اس نے بھی شہر چھوڑے اور ویرانوں میں آباد ہوا۔لیکن ویرانے اس کو کھا گئے اور اس کا نشان اب کتابوں، قصوں اور کہانیوں کے سوا کہیں نہیں ملتا۔لیکن ایک خدا کی محبت کا مجنوں وہ تھا، جو ابراہیم علیہ السلام کی شکل میں ہمیں نظر آتا ہے۔اس نے بھی خدا کی محبت میں شہر چھوڑے اور ویرانے میں اپنی اولاد کو آباد کیا۔لیکن جہاں اس کی اولاد آباد ہوئی، اب وہ ساری دنیا کے مسلمانوں کا مرکز بن چکا ہے۔اور دنیا کا کوئی ایسا شہر نہیں، جس کی زیارت کے لئے اس کثرت سے لوگ جاتے ہوں، جتنے آج مکہ کی زیارت کے لئے جاتے ہیں۔پھر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو 624