تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 612 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 612

خطاب فرمودہ 05اکتوبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک پس ان کے ابھارنے کے لئے اور ان کے حوصلے بڑھانے کے لئے اس آیت پر زور دینے کو اشد ضرورت تھی کہ تم بدلہ ضرور لو اور آنکھ کے بدلہ آنکھ اور دانت کے بدلہ دانت توڑا جائے۔اگر بدلہ لینے پر اس قدر شدت اختیار کرنے کی بجائے انہیں معاف کرنے کی تلقین زیادہ شدت سے کی جاتی تو ایک مقہور اور مظلوم قوم، جو پہلے ہی بدلہ لینے سے ڈرتی رہی ہو، وہ تو فورا اپنی بزدلی کو معافی کی چادر میں ڈھانپ لے گی اور مردانہ صفات سے اس طرح عاری رہے گی، جس طرح پہلے تھی۔پس قرآن کے نزدیک یہ سخت متشد تعلیم بھی اس وقت کے سیاق و سباق میں نہایت حکیمانہ بلکہ لا بدی تھی۔اور یقیناً ایک حکیم علیم خدا کی طرف سے تھی۔اب اس کے برعکس ہم عہد نامہ جدید کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ عہد نامہ قدیم کے برعکس بدلہ کی بجائے عضو پر اتنا غل کیا جارہا ہے کہ بنی اسرائیل کو بدلہ لینے کے بنیادی حق سے ہی محروم کیا جا رہا ہے۔در اصل بات یہی تھی کہ جب ایک زمانہ گزر گیا اور نسلاً بعد نسل بنی اسرائیل نے اس قاعدہ پر عمل کیا تو ان کے اندر ایک قسم کی خونخواری اور سخت دلی پیدا ہوگئی۔(البقرة:75) اب اس کے سوا ان کا علاج نہ تھا کہ ایک تاریخی عہد تک ان سے بدلہ کا حق چھین لیا جائے۔چنانچہ مسیح کے ذریعہ بنی اسرائیل کو یہ تعلیم دی گئی۔دوستم سن چکے ہو کہ کہا گیا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت۔پر میں تمہیں کہتا ہوں کہ ظالم کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو تیرے داہنے ہاتھ پرطمانچہ مارے، دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے۔اور اگر کوئی چاہے کہ تجھ پر نالش کر کے تیری قبا لے کرتے کو بھی اسے لینے دے۔اور جو کوئی تجھے ایک کوس بیگار لے جاوے، اس کے ساتھ دو کوس چلا جا۔اپنے دشمنوں کو پیار کرو اور جو تم پر لعنت کریں ، ان کے لئے برکت چاہو۔جو تم سے کینہ رکھیں، ان کا بھلا چاہو اور جو تمہیں دکھ دیں اور ستائیں ، ان کے لئے دعا مانگو۔(5/4535) پس اسلام عیسائیت پر بھی تنقید نہیں کرتا اور دونوں تعلیموں کی حالات کے ساتھ مطابقت اس طرح کرتا ہے کہ پہلی تعلیم اپنے وقت کی ایک بزدل قوم کے واسطے تھی تو دوسری ایک سفاک قوم کے لئے۔یہ وہ زمانہ تھا کہ انسان ابھی اپنی تادیب اور تربیت کے ابتدائی مراحل میں سے گزر رہا تھا اور بلوغت کو نہیں 612