تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 611
تحریک جدید- ایک الہی تحریک قائم کرو کہ وہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔خطاب فرمودہ 105اکتوبر 1983ء -3 اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم عدل نہ کرو تم انصاف کو ہر حال میں (المائدة: 09) -4 اللہ تعالیٰ کی راہ میں صرف ان سے جنگ کرد، جنہوں نے تمہارے خلاف جنگ کی ہو۔اور اس معاملے میں کسی قسم کی زیادتی نہ کرو۔(البقرة: 191) گویا جنگ میں بھی جنگجو قوم سے بے انصافی نہیں کرنی۔5- دوران جنگ میں بھی اگر دشمن صلح پر آمادہ ہو جائے تو اس کی یہ پیشکش ٹھکرائی نہ جائے۔(الانفال: 62) ب۔اسلام کی غیر مبدل تعلیم کی دوسری مثال عفوہ انتقام کے بارہ میں دوں گا۔جو گردش زمانہ کے باوجو دائل اور فیصلہ کن تعلیم ہے۔اور جس سے بہتر تعلیم کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔اس پہلو سے جب ہم اسلام کا دوسرے مذاہب سے موازنہ کرتے ہیں تو بائبل کا یہ حکم آج کے انسان کے کانوں کو عجیب لگتا ہے کہ اور تیری آنکھ مروت نہ کرے کہ جان کا بدلہ جان، آنکھ کا بدلہ آنکھ، دانت کا بدلہ دانت، ہاتھ کا بدلہ ہاتھ اور پاؤں کا بدلہ پاؤں ہوگا“۔(استثناء 19/21) انتقام پر اتنا زور دیکھ کر آج کا انسان تعجب کرتا ہے اور تکلیف محسوس کرتا ہے۔لیکن میں اس تعلیم پر کسی تنقید کے نقطہ نظر سے یہ نمونہ پیش نہیں کر رہا بلکہ یہ مجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ قرآنی تعلیم کی روشنی میں اس بظاہر نہایت جابرانہ تعلیم کے جواز میں بھی ایک دلیل میسر آجاتی ہے۔یہ بھی اسلامی تعلیم کا ایک امتیازی حسن ہے۔جن مذاہب سے تعلیم کا ٹکراؤ بھی ہے، ان کی بھی مذمت کرنے کی بجائے ان کی تعلیم کو سمجھنے کے لئے نہایت حکیمانہ اصول پیش فرماتا ہے۔چنانچہ قرآن کی رو سے یہ لازماً انتقام لینے کی تعلیم ایک مخصوص دور کے وقتی تقاضوں کے عین مطابق تھی۔اور اس زمانہ کے یہودی ایک مدت تک محکومیت و مظلومیت میں رہنے کی وجہ سے نہایت بزدل ہو چکے تھے اور اپنے جائز حقوق کی حفاظت کے اہل نہیں رہے تھے اور ساری قوم احساس کمتری کا شکار ہو چکی تھی۔(البقرة:50) 611