تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 582 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 582

خطاب فرمودہ 30 ستمبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم کہیں نظر نہیں آیا۔اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو آج کے زمانہ کے راکٹ بھی گزرے ہوئے زمانہ کی سر بفلک عمارتوں کی طرح انسان کی اپنی جھوٹی عظمت اور بے حقیقت سرفرازی کے زعم میں مبتلا کرنے کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔لیکن اس زمانہ کے انسان کا یہ تفاخر بھی اسی طرح عارضی اور لاشی ہے، جس طرح گزری ہوئی قوموں کا تفاخر تھا۔پس قرآن مجید اس عمارت کا ذکر کر کے دراصل غرور میں مبتلا اسی مادہ پرستانہ ذہنیت کو آشکار کر رہا ہے، جو ماضی میں ہمیشہ ہی مذہب سے نبرد آزما رہی ہے اور آئندہ بھی ہمیشہ نبرد آزمار ہے گی۔یہی وہ مادہ پرستانہ ذہنیت ہے، جو اپنی مادی آنکھ سے مذہب کی روحانی اقدار کو جانچنے اور پر کھنے پر اصرار کرتی ہے۔لیکن تاریخ مذاہب سے ہمیں یہ غیر فانی سبق ملتا ہے کہ ہمیشہ کی طرح آج بھی اور کل بھی ان مادی طاقتوں کے مقدر میں شکست اور نامرادی لکھی جائے گی۔کوئی مادی فلسفہ وجہ نہیں بیان کر سکتا کہ غریب بے یارومددگار کیلا موٹی مصر کے باجبروت حاکم یعنی فرعون کو جو بجز اپنے کسی خدا کا قائل نہیں تھا، شکست دینے اور نیچا دکھانے میں کیسے کامیاب ہوا؟ سوچنے کی بات ہے کہ موسیٰ ایسا بیکس انسان، جو غریب اور بے حیثیت ماں باپ کے گھر پیدا ہوا تھا کب یہ گمان کر سکتا تھا کہ ایک دن وہ فرعون ایسے طاقتور بادشاہ کو ہار ماننے اور بے بس ہونے پر مجبور کر دے گا۔آج فرعون مصر منفتاح اور ہامان کی بنائی ہوئی عمارت کا کوئی نشان نظر نہیں آتا۔جو اس غرض سے بنائی گئی تھی کہ آسمان کی بلندیوں کو چھو کر ذرا موسیٰ کے خدا کی خبر لے آئیں۔کیا یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ منفتاح سے پندرہ پشت قبل کے فراعنہ مصر کی بنائی ہوئی بعض عمارتیں اہرام کی شکل میں آج بھی موجود ہیں۔لیکن اگر نشان نہیں ملتا تو اس عمارت کا ، جو آسمان کے خدا سے پوچھ گچھ کرنے کے لئے بڑے گھمنڈ اور تکبر سے بنائی گئی تھی۔وہ ایسی پیوند خاک ہوئی کہ جیسے کبھی بنائی ہی نہ گئی ہو۔اگر اس کے وجود کا کچھ پتا ملتا بھی ہے تو صرف اس بات سے کہ وہ معدوم ہو چکی ہے۔لیکن قطع نظر اس سے کہ وہ عمارت کب اور کہاں بنی اور کتنی بلندی تک پہنچی اور کب مسمار ہوئی؟ ایک بات قطعی اور یقینی ہے اور وہ یہ کہ خدا کے ایک غریب اور عاجز اور بے کس بندہ کے مقابل پر جب ایک صاحب جبروت اور دنیوی عظمتوں کا حامل ایک عظیم بادشاہ آیا اور اس سے ٹکر لینا چاہی تو وہ ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوئے بغیر نہ رہا۔اس کی اپنی تہذیب مٹ گئی، اس کا تمدن قصہ پارینہ بن گیا، اس کا تکبر خاک میں مل گیا، اس کے دعوی خدائی کا ایسا عبرتناک انجام ہوا کہ آج روئے زمین پر ایک متنفس بھی ایسا نہیں، جو اس کو خداستسلیم کرنا تو در کنار اس کی طرف منسوب ہونا بھی اپنے لئے باعث فخر سمجھے۔لیکن خدا کا بندہ موسیٰ آج بھی زندہ ہے۔وہ خاک ایسی پا کی بھی پہنچ خاک نشین ایسی رفعتیں پا گیا، جس تک فرعون کی اونچی سے اونچی تصوراتی جست اور چھلانگ بھی نہیں پہنچ سکتی 582