تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 581 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 581

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خطاب فرمودہ 30 ستمبر 1983 ء ان دو متقابل تعمیرات ( یعنی خانہ کعبہ اور اہرام مصر) کی مختلف اور متضاد حیثیتوں سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟ وہ کیا چیز ہے، جس نے خدائے واحد کے اس سادہ سے گھر کو زندگی سے معمور کر رکھا ہے جبکہ فراعنہ مصر کی عظیم یادگاری عمارتوں یعنی اہرام مصر پر ویرانی چھائی ہوئی ہے اور وہ حسرت و یاس کی تصویر بنے ہوئے ہیں؟ ایسا کیوں ہے کہ ایک عمارت کا پیش کردہ فلسفہ حیات آج بھی زندہ ہے اور اپنے زندہ بخش ہونے کا ثبوت دے رہا ہے۔جبکہ دوسری عمارتیں جس فلسفہ حیات کی آئینہ دار تھیں، اس کا نام ونشان بھی باقی نہیں ہے؟ یہ کیسے ممکن ہوا کہ اول الذکر عمارت شکست و ریخت اور انحطاط وزوال کے اصول کو شکست دینے میں کامیاب رہی جبکہ مؤخر الذکر عمارتیں اور ان کے پیش کردہ فلسفے معدوم ہوئے بغیر نہیں رہے۔جبکہ فی الوقت عمارتوں کا تذکرہ ہورہا ہے، اس تسلسل میں، میں ایک اور زبردست عمارت کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔یہ وہ عمارت تھی، جو اس غرض سے بلند کی گئی تھی کہ خدا کے وجود کو چیلنج کرے اور اللہ کو او اللہ والوں کو نیچا دکھائے۔قرآن کریم اس عمارت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:۔وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَأَيُّهَا الْمَلَأُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِنْ اللَّهِ غَيْرِى فَا وَ قِدْ لِي يُهَا مَنُ عَلَى الطِينِ فَاجْعَلْ لِي صَرْحًا لَّعَلَّى أَطَّلِعُ إلَى إِلَهِ مُوسَى وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ مِنَ الْكَذِبِينَ (القصص: 39) یعنی فرعون نے اپنے سرداروں سے کہا کہ مجھے تو اپنے سوا تمہارا اور کوئی معبود نظر نہیں آتا۔(پھر) یہ موسیٰ نہ جانے کس خدا کی باتیں کر رہا ہے؟) پس اے ہامان ! میرے لئے مٹی کو پختہ کرنے کے لئے آگ بھڑ کا ؤ اور ایک بلند و بالا عمارت تیار کرو تا کہ میں ذرا موسیٰ کے خدا کو دیکھوں تو سہی۔لیکن امر واقعہ یہی ہے کہ میں اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔قرآن کریم کی یہ آیت نہ صرف اس واقعہ کا ذکر کر رہی ہے، جو آج سے قریباً 3300 سال پہلے گذرا بلکہ ایک ایسے مادہ پرست انسان کی نفسیاتی حالت اور ذہنی کیفیت کا نقشہ کھینچ رہی ہے، جس کے دماغ میں تکبر کے زیر اثر یہ سودا سمایا ہوا ہو کہ وہ انسانی حدود و قیود سے آزاد ہو چکا ہے اور اس کا علم غیب و شہود یعنی ہر حاضر و غائب پر حاوی ہے۔چنانچہ عصر حاضر یعنی خود ہمارے زمانہ میں بھی اسی نفسیاتی حالت اور ذہنی کیفیت کا مظاہرہ اس وقت دیکھنے میں آیا جبکہ ایک عظیم مادی طاقت کے خلانورد نے اپنی معمولی سی خلائی چھلانگ کے نشہ میں بے قابو ہو کر یہ تعلی کی کہ میں تو خلا میں ہر طرف دیکھ آیا ہوں، مجھے کسی خدا کا کوئی نشان 581