تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 562 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 562

خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 1983ء تحریک جدید - ایک البی تحریک جلد ششم جنہوں نے یہ عزم کر رکھا ہے کہ وہ ہر قیمت پر اس معاشرہ پر غالب آئیں گے اور ان کے کردار میں خدا تعالیٰ کے فضل سے زندگی کے آثار نظر آتے ہیں۔لیکن بالعموم یہ کہنا درست ہے کہ جماعت کو اس ملک میں جس شان کے ساتھ دیکھنے کی میں توقع رکھتا ہوں، وہ پوری نہیں ہوئی۔امر واقعہ یہ ہے کہ ان حالات میں دو قسم کے ہی رد عمل ہو سکتے تھے اور ہو سکتے ہیں۔ایک رد عمل ہے، حد سے زیادہ دہر بیت اور مادہ پرستی کے سمندر میں ڈوب کر اس سے مرعوب ہو جانے کا۔اور رفتہ رفتہ ان قدروں سے دور چلے جانے کا، جن کو لے کر ہم اپنے ملکوں میں یہاں آئے تھے۔اور دوسرار عمل ہے، اس کے مقابل پر اور زیادہ بختی اختیار کرنے کا، بے چینی محسوس کرنے کا، فکر محسوس کرنے کا اور وہ رستے تلاش کرنے کا ، جن پر چل کر ہم ان کے بداثرات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔یہ دوسرار عمل ، جس قوت کے ساتھ نظر آنا چاہئے تھا، اس قوت سے یہاں نظر نہیں آ رہا۔امر واقعہ یہ ہے کہ قانون قدرت کو بھلا کر دنیا کی کوئی قوم بھی درحقیقت زندہ نہیں رہ سکتی۔قانون قدرت کو نظر انداز کر کے دنیا کی کوئی چیز بھی غالب آنے کا دعوی ہی نہیں کر سکتی، کجا یہ کہ وہ زندہ رہ سکے۔انسانوں کی زندگی کو دیکھئے یا حیوانوں کی زندگی کو دیکھئے ، وہ اپنے ماحول سے متاثر ہوتے ہیں اور ہمیشہ دو طرح سے متاثر ہوتے ہیں۔بعض حیوانات کو مخالف حالات مٹادیتے ہیں اور نابود کر دیتے ہیں، بعض حیوانات میں ایک ردعمل پیدا ہوتا ہے اور وہ ان حالات پر غالب آنے کی کوشش کرتے ہیں اور قانون قدرت انہیں وہ نئے وسائل عطا کر دیتا ہے، نئے ذرائع انہیں میسر آ جاتے ہیں، جن سے وہ پیش آمدہ حالات کا بہتر رنگ میں مقابلہ کر سکتے ہیں۔یہی ہے خلاصہ، اس سارے انسانی یا حیوانی ارتقا کا، جس میں زندگی کی موت کے ساتھ ایک مسلسل جد و جہد نظر آتی ہے۔اور دوہی طرح کے رد عمل ظاہر ہوتے ہیں، تیسرار عمل ہمیں کوئی نظر نہیں آتا۔یا تو یہ نظر آتا ہے کہ زندگی نے غیر معمولی کوشش کی اور موت پر غالب آگئی اور یا پھر زندگی موت کا شکار ہوگئی۔اور یہی وہ دورد عمل ہیں، جو انسانی نظریات کی جنگ میں ہمیں نظر آتے ہیں۔پس جب احمدی دوست اس دور دراز براعظم میں آئے اور یہاں رہنے کا فیصلہ کیا تو ان کوکھل کر یہ بات نظر آنی چاہئے تھی کہ اگر انہوں نے غیر معمولی جدو جہد کے بغیر یہاں رہنے کا فیصلہ کیا ہے تو پھر اس بات پر بھی ان کو تیار ہو جانا چاہئے کہ وہ انگلی نسلوں کو اپنے ہاتھ سے کھو دیں گے اور رفتہ رفتہ اسی ماحول کا شکار ہو کر انہی لوگوں میں سے ہو کر رہ جائیں گے۔یا اس کے برعکس انہیں عام حالات کی نسبت زیادہ ذمہ داری ، زیادہ کوشش اور زیادہ جد و جہد کے ساتھ زندہ رہنا ہوگا۔گرمی کا موسم ہو تو انسان کا گزارہ عام کپڑوں 562