تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 563
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 1983ء میں ہو جاتا ہے۔گرمی کے موسم میں بغیر کپڑوں کے بھی انسان اپنے جسم کی حرارت کو محفوظ رکھ سکتا ہے بلکہ وہ یہ کوشش کرتا ہے کہ یہ حرارت کسی اور ذریعہ سے جسم سے نکلنی شروع ہو جائے تاکہ گرمی کا احساس کم ہو۔لیکن اگر آپ North Pole یا South Pole ( قطب شمالی یا قطب جنوبی) کے برفانی علاقوں میں چلے جائیں تو سنگے جسم کا تو سوال کیا، عام سردیوں کے موسم میں بھی جو کپڑے پہنے جاتے ہیں، وہ کافی نہیں ہوا کرتے۔وہاں زندگی کی جدو جہد کے لئے کچھ مزید چیزوں کی تلاش کرنی پڑتی ہے۔اندرونی طور پر گرمی پیدا کرنے کے لئے خاص غذاؤں کی ضرورت پڑتی ہے، بیرونی طور پر موسم سے حفاظت کے لئے غیر معمولی لباس کی ضروریات پڑتی ہے۔میری مراد یہ ہے کہ موسم میں جتنی زیادہ خنکی پیدا ہو، اتنی جد و جہد بھی زیادہ کرنی پڑتی ہے۔اگر ایسا نہیں کریں گے تو پھر زندگی کی توقع لے کر بیٹھنا محض حماقت ہے۔پس جتنا زیادہ دہریانہ ماحول ہو، جتنی زیادہ دنیا پرستی ہو، اتنا ہی احمدی کو کسی لباس کی تلاش کرنی چاہئے۔اس لباس کے بغیر وہ اس ماحول کی موت کی سردی سے بچ نہیں سکتا۔وہ کون سا لباس ہے، جو اس کو بچا سکتا ہے؟ قرآن کریم نے اس لباس کا نام لیا اور فرمایا:۔وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ (الاعراف: 27) ایک ہی لباس ہے اور وہ تقویٰ کا لباس ہے، جو مادہ پرستی کے سردخانوں میں بھی آپ کو زندگی کی ضمانت دے سکتا ہے۔دنیا کے پردے پر آپ کہیں بھی چلے جائیں ، وہ آپ کی حفاظت کرے گا اور آپ کو دنیا کے ہر شر سے محفوظ رکھے گا۔اور لباس التقویٰ ہی ہے، جو کبھی انسان کا لباس بنتا ہے اور کبھی اس کے لئے زادراہ بن جاتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے اسی تقویٰ کو زاد راہ بنا کر بھی دکھایا اور فرمایا: تم تقویٰ کی زاد کو پکڑو۔یہی زادراہ ہے، جو تمہارے کام آسکے گا۔یہ تقویٰ ہی ہے، جو آپ کی حفاظت کے لئے اندرونی غذا کا کام بھی دیتا ہے اور آپ کی حفاظت کے لئے بیرونی لباس کا بھی۔اور جتنا زیادہ ما حول مخالف ہو، اتناہی زیادہ تقویٰ کی تلاش ہونی چاہئے۔یہ کیا چیز ہے؟ تقویٰ کس کو کہتے ہیں؟ تقویٰ کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان ہر فعل میں اور ہر سوچ میں اللہ کی طرف نگاہ ڈالنی سیکھ جائے اور یہ سوچنا شروع کرے کہ میں خدا کی خاطر زندہ ہوں۔تقویٰ کا ایک معنی خوف بھی ہے۔تقویٰ کا معنی ڈر بھی ہے۔لیکن وہ ڈر نہیں جو کسی جانور یا سانپ یا بچھو سے ہوتا ہے۔بلکہ تقویٰ ایسے خوف کو کہتے ہیں، جو محبت کرنے والے کے پیار کو کھو دینے کا ڈر ہوتا ہے۔ہمیشہ یہ خطرہ دامن گیر ہو کہ 563