تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 556 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 556

خطاب فرمودہ 21 ستمبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک اس لیے میں پھر کہتا ہوں کہ اگر آپ خدا والے بن جائیں تو سارے نبی کی تقدیر بدل جائے گی۔نجی میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے، جن کے راستہ سے نجی والے اپنے اللہ کو پالیں گے۔اس سے بڑا احسان اور کیا ہو سکتا ہے؟ پس اس ہمت کوشش اور یقین کے ساتھ کام کریں کہ مخلوق خدا کی ہدایت کی ساری ذمہ داری آپ پر ہے۔ساری قوم آپ کی منتظر بیٹھی ہے، آپ کی راہ دیکھ رہی ہے کہ کب آپ ان کو ہدایت کی طرف بلائیں؟ اور کب آپ ان کی اصلاح کریں؟ کب آپ ان کو اللہ کا پیار عطا کریں؟ کب آپ انہیں رب سے ملادیں؟ کیونکہ انسانی زندگی کا یہی مقصد ہے۔وہ جو خدا کو پالیتا ہے، کامیاب ہو جاتا ہے۔ایک سوال یہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ ہماری مدد کی جائے، مرکز سے کوئی تربیت یافتہ مبلغ بھجوایا جائے۔لیکن ساتھ ہی بہت ہی ملائمت سے اور بڑی نرمی سے آپ کے علاقہ کے امیر صاحب نے فرمایا کہ ہم جانتے ہیں، مرکز کے پاس آدمی تھوڑے ہیں۔یورپ، امریکہ، ایشیاء کے ممالک، مشرقی کمیونسٹ ممالک، افریقی ممالک، جنوبی امریکہ کے ممالک کہاں کہاں ہم مبلغ بھیج سکتے ہیں؟ غرض انہوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ ہم خواہش تو یہ رکھتے ہیں لیکن ہم کوئی مطالبہ نہیں کرتے۔کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ مرکز کے پاس آدمی بہت تھوڑے ہیں۔لیکن میں ان کو بتاتا ہوں کہ نبی کے دورے میں، میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ انشاء اللہ یہاں مبلغوں کی تعداد بڑھائی جائے گی۔اور انشاء اللہ آپ کے جزیرہ کو بھی ایک مبلغ دیا جائے گا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ نبی قوم ، بہت اچھی قوم ہے۔یہاں کے بسنے والے نجیئن بھی اور دوسرے بھی بہت اچھے لوگ ہیں۔میں نے ان کے اندر بڑی شرافت دیکھی ہے، ان کے اندرا بھی انسانیت زندہ ہے۔اس لیے کہ یہ ایک دور دراز کے جزیرہ میں آباد ہیں۔اس کا آپ کو ایک فائدہ بھی ہے۔جو لوگ بڑے بڑے ملکوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، وہ بہت گندے ہو چکے ہیں، ان میں انسانیت کی قدیر یں زوال پذیر ہیں، وہ دن بدن (inhuman) ہوتے جارہے ہیں۔ان کی زندگی مادہ پرستی کی خوگر ہو کر رہ گئی ہے۔ان میں حوصلے کم اور نفرتیں زیادہ ہیں۔ان میں کئی قسم کی (terrorism) دہشت پسندانہ تحریکیں چل رہی ہیں، جنہوں نے ملکوں کے ملک تباہ کر رکھے ہیں۔مذہب کو مذہب سے لڑایا جا رہا ہے، قوم کو قوم سے لڑایا جا رہا ہے، غریب کو امیر سے اور امیر کو غریب سے لڑایا جارہا ہے۔دنیا میں ہر طرف فساد پھیل گیا ہے۔اللہ کا آپ پر یہ احسان ہے کہ آپ اس گندی دنیا سے دور ہیں۔اس کا آپ کو فائدہ یہ ہے کہ آپ کی قوم میں ابھی تک نیکی کا اثر باقی ہے۔میں نے محسوس کیا ہے کہ آپ کے دلوں میں انسانیت کا اچھا خاصا جذ بہ موجود ہے۔اس لیے میں نے سوچا کہ جہاں زمین زرخیز ہو، انسان اپنی کوششوں کا رخ اسی 556