تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 533 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 533

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 09 ستمبر 1983ء بگاڑنے لگ جائیں اور ان کے لئے نگرانی کا کوئی انتظام نہ ہو سکے، یہ محض نقصان کا سودا ہے۔اس سے اسلام کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔پس ہمیں تو اسلام سے سچی محبت اور پیار ہے۔ہم کہیں بھی اس صورت میں اسلام کا آنا پسند نہیں کرتے کہ اس کا ہاتھ نعوذ باللہ طاغوتی طاقتوں نے پکڑا ہو اور بعض غیر اسلامی قدریں لے کر وہ کسی ملک میں داخل ہو۔پس اس پہلو سے احمدیت کی ذمہ داریاں پہلے سے بہت زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔نام کے اسلام سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں۔ہمیں تو حقیقت اسلام میں دلچسپی ہے اور نہ صرف یہ کہ نئی قوموں کو ہم نے سچا اسلام دینا ہے بلکہ ان لوگوں کو جو اسلام کا غلط تصور لے رہے ہیں یا اسلام میں بگاڑ پیدا کرنے میں کوئی باک محسوس نہیں کرتے اور کوئی ان کے ہاتھ روک نہیں رہا، ان کی اصلاح کرنا بھی اب جماعت احمدیہ کی ذمہ داری ہے۔یہ اتنا بڑا کام ہے کہ اس کے مقابل پر جو ہمیں ظاہری توفیق حاصل ہے، وہ کچھ بھی نہیں۔اور اگر محض دنیوی نقطہ نگاہ سے دیکھیں تو ہرگز جماعت کی یہ طاقت نہیں کہ وہ اس عظیم الشان کام کو سر انجام دے سکے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک نہایت ہی آسان طریق ناممکن کاموں کو ممکن بنانے کا مقرر فرما رکھا ہے۔وہ بہت ہی آسان اور بہت ہی پیارا اور بہت ہی دلنو از طریق ہے، جس میں کوئی مشکل اور مشقت نہیں بلکہ لطف ہی لطف ہے۔پرسوں کراچی میں ایک غیر از جماعت دوست کے سوال کے جواب میں، میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پنجابی الہام بیان کیا۔اس الہام میں یہ بات بیان کی گئی ہے، جو میں آپ کے سامنے کھول کر رکھنا چاہتا ہوں۔وہ الہام شعر کے ایک مصرعہ میں ہے:۔جے توں میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو پس دنیا کو اپنا بنانے کے لئے دور ستے ہیں۔ایک یہ ہے کہ براہ راست دنیا کے پیچھے پڑا جائے اور دنیا کو اپنا بنایا جائے۔یہ بہت ہی مشکل اور وسیع کام ہے۔اور ایک چھوٹی سی جماعت کے لئے ناممکن ہے کہ ساری دنیا کے پیچھے پڑ کر اسے اپنا بنا سکے۔اس کا سب سے آسان طریق یہ ہے کہ دنیا کے مالک کو اپنا بنالیا جائے ، جو ایک ہی ہے۔اور اس سے تعلق جوڑنا ، ہر بندہ کے بس میں ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جب اتنی بڑی ذمہ داری سونپی کہ آج کے زمانہ کی دنیا کو خدا کے نام پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں اکٹھا کیا جائے تو بظاہر یہ کام ناممکن تھا۔لیکن ایک چھوٹے سے مصرعہ میں اس کا حل بھی بیان فرما دیا کہ اس طریق پر یہ کام کرو۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں جہاں بھی احمدی موجود ہیں، خواہ وہ احمدی انڈونیشیا کا ہو یا سنگاپور کا، برما کا ہو یا ملائشیا کا، جاپان کا ہو یا چین کا ، ان 533