تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 532
خطبہ جمعہ فرمودہ 09 ستمبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم حلال ہو گیا۔اسی طرح دیگر اسلامی احکامات میں بھی ان لوگوں کا دخل دینا بعید از قیاس نہیں ہے۔بلکہ جہاں تک عبادات کا تعلق ہے، عملا وہ یہی سمجھتے ہیں کہ کبھی شوقیہ کوئی نماز پڑھ لی جائے تو یہی بہت کافی ہے۔اور جہاں تک روزوں کا تعلق ہے، بعض ایسے مسلمانوں سے جب میں نے پتہ کیا تو انہوں نے کہا: ہم ایک آدھ روزہ رکھ لیتے ہیں، اس سے زیادہ روزہ اس زمانہ میں نہیں رکھا جاسکتا۔تو گویا ایسا اسلام قبول کیا جارہا ہے، جو ان کے نزدیک نہ صرف مختلف قوموں کے لئے مختلف شکلیں اختیار کر جاتا ہے بلکہ مختلف زمانوں سے الگ الگ سلوک کرتا ہے۔پس اگر چہ عیسائیت کو قبول کرنے اور اسلام کو قبول کرنے کی بنیادی وجہ بظاہر ایک ہی نظر آتی ہے لیکن عیسائیت کو کوئی خطرہ نہیں اور اسلام کو خطرہ ہے۔عیسائیت کو اس لئے خطرہ نہیں کہ عیسائیت تو پہلے ہی جتنا بگڑ سکتی تھی ، بگڑ چکی ہے۔اس میں اگر کوئی تبدیلی کی جائے تو ہو سکتا ہے، اصلاح ہو جائے۔اس میں مزید بگاڑ کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔چنانچہ گزشتہ ایک صدی نے یہی حقیقت ظاہر کی ہے کہ عیسائیت میں فی زمانہ ہونے والی تبدیلیوں نے عیسائیت کے چہرے مہرے کو پہلے سے بہتر کیا ہے، بگاڑا نہیں۔مثلاً طلاق کا مضمون ہے، آج سے چند سو سال پہلے تو تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ عیسائی دنیا طلاق کی اجازت دے گی۔اسی طرح اگر عورت کی صحت اجازت نہ دے تو اسلام اس بات سے منع نہیں کرتا کہ بچے کو ضائع کر دیا جائے۔کیونکہ جو زندگی ماں کی ہے، وہ بچے کے مقابل پر زیادہ عزیز ہے۔لیکن عیسائی اس کے قائل نہیں تھے۔گزشتہ ایک، دو سو سال کے اندر اندر یہ نمایاں تبدیلی بھی ہمیں نظر آ رہی ہے کہ اب عیسائی دنیا اس کو جائز سمجھنے لگی ہے۔سوائے ایک دو ملکوں کے باقی سب عیسائی فرقے اور مختلف ملکوں کے عیسائی اس کو جائز قرار دینے لگے ہیں۔پس ایک بیمار اور نیم جان اور نیم مردہ مذہب میں اگر کوئی تبدیلیاں کی جائیں تو اس کو فائدہ ہی بخشتی ہیں، اس کی مزید موت کا کوئی خطرہ نہیں بنتیں۔لیکن ایک زندہ مذہب اس بات کا متحمل نہیں ہوتا کہ اس میں تبدیلیاں کی جائیں۔پس عیسائیت کو نہ صرف کوئی خطرہ نہیں بلکہ فوائد بھی حاصل ہوئے۔کیونکہ ان کے مقصد دنیاوی تھے۔اس وقت عیسائی دنیا جہاں جہاں بھی تبلیغ کر رہی ہے، اس کے پیچھے مغرب کے سیاسی اثر کو وسیع کرنا اور بڑی طاقت اور مضبوطی کے ساتھ وہاں مغربی تہذیب کے قدم جمانا، یہ دو بنیادی مقاصد کار فرما ہیں۔اور یہ دونوں مقاصد ان کو عیسائیت کی قربانی دیئے بغیر حاصل ہو جاتے ہیں۔لیکن اسلام کو تو کسی سیاسی عروج میں دلچسپی نہیں۔یہ تو انسان کی روحانی زندگی میں دلچسپی رکھتا ہے۔اور بندہ کے خدا سے تعلق میں دلچسپی رکھتا ہے۔اس لئے ایسی قوموں میں اسلام کا نفوذ، جو اسلام کو 532