تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 531
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 09 ستمبر 1983ء توفیق ملی۔لیکن کئی سو سال سے یہ تاریخ بن رہی ہے کہ بدھسٹ عیسائیت تو قبول کر رہے ہیں لیکن اسلام کی طرف مائل نہیں ہور ہے۔اسی طرح کنفیوشس کے ماننے والے اور تاؤ ازم کے مقلدین کو بھی اگر چہ عیسائیت کی طرف توجہ ہورہی ہے لیکن انہوں نے ابھی تک اسلام کی طرف وسیع پیمانے پر توجہ نہیں شروع کی۔گزشتہ چند سالوں سے اس طرز عمل میں کچھ تبدیلی واقع ہوئی ہے۔لیکن وہ بھی بعض پہلوؤں کے لحاظ سے اتنی خوشکن نہیں، جتنی کہ وہ اپنے اندر بعض خطرناک پہلو رکھتی ہے۔اور یہ دونوں تاریخی عمل یعنی سب سے پہلے ان قوموں کا عیسائیت کی طرف مائل ہونا اور گزشتہ چند سال سے اسلام میں دلچسپی لینا، بنیادی طور پر ایک ہی نفسیاتی توجہ کو ظاہر کر رہے ہیں۔وہ وجہ یہ ہے کہ عیسائیت میں بھی ان کی دلچسپی در اصل مادہ پرستی میں دلچسپی کا نتیجہ تھی اور عیسائیت کو چونکہ انہوں نے ایک وسیع طاقتور قوم کے طور پر دیکھا، جس سے ان کے مالی اور سیاسی مقاصد وابستہ ہو سکتے تھے اور فوائد پہنچ سکتے تھے، اس لئے حقیقت میں انہوں نے کسی مذہب کو قبول نہیں کیا بلکہ ایک متمول سیاسی قوم کے اثر کوقبول کیا ہے۔چنانچہ یہی دنیاداری کا رجحان اب ان کو اسلام میں دلچسپی لینے پر مجبور کر رہا ہے۔کیونکہ تیل کی دولت نے سب دنیا کی توجہ مشرق وسطی کی طرف کھینچی ہے اور اس سے استفادہ کرنے کے لئے بعض ایسی قو میں توجہ کر رہی ہیں، جو دراصل مادیت میں دلچسپی رکھتی ہیں۔کیونکہ ان کے سابقہ مذاہب نے بھی انہیں خدا کا کوئی واضح تصور عطا نہیں کیا۔چنانچہ چند سال قبل جاپان کی مسلم ایسوسی ایشن کے بعض عہد یداروں سے میری ملاقات ہوئی تو دوران گفتگو یہ بات کھل کر میرے سامنے آئی کہ ان کو اسلام سے زیادہ ان علاقوں میں دلچسپی ہے، جہاں مسلمان قابض ہیں اور تیل دریافت ہو چکا ہے۔چنانچہ ان لوگوں نے محض نام تبدیل کئے اور اسلام کو گہرائی سے سمجھے بغیر اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا۔جس خطرہ کی میں نے نشاندہی کی تھی کہ اس میں فوائد سے زیادہ خطرہ نظر آتا ہے۔وہ خطرہ یہ ہے کہ چونکہ وہ اسلام کو صحیح طور پر نہیں سمجھ سکے، اس لئے مسلمان کہلانے کے باوجود مذہب اسلام کو نقصان پہنچانے کا موجب بن سکتے ہیں۔چنانچہ اس کے دو ثبوت مجھے ان جاپانی مسلمانوں سے گفتگو کے دوران یہ ملے کہ انہوں نے مجھے بتایا کہ اسلام میں جو شراب حرام ہے، وہ جاپان کے حالات کی رو سے حرام نہیں ہے۔اس لئے ہماری مسلم ایسوسی ایشن نے با قاعدہ فتویٰ شائع کر دیا ہے کہ جاپان میں مسلمانوں کے لئے شراب پینا جائز ہے۔کیونکہ جن حالات میں منع ہے، جاپانی قوم پر وہ اطلاق نہیں پاتے۔اسی طرح سور کھانا بھی جاپان کے مسلمانوں کے لئے جائز ہے۔کیونکہ یہ بہت صاف ستھرا جانور ہے، اسے اچھی طرح حفاظت سے پال کر ذبح کیا جاتا ہے۔تو جاپانی حالات میں شراب بھی حلال ہوگئی اور سور کا گوشت بھی ر 531