تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 530
خطبہ جمعہ فرمودہ 09 ستمبر 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم دکھائی ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انڈونیشیا نہ جا سکنا کوئی اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ پہلے سے ہی تقدیر الہی میں مقدر تھا۔لیکن اس کے بدنتائج نہیں نکلیں گے۔بلکہ ان خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی اس فعل بھی برکت ڈالے گا اور انڈونیشیا کے لئے بھی ترقی کے بہت سے سامان پیدا فرمائے گا۔جب ہم نے انڈونیشیا کے دورہ کے متعلق سوچنا شروع کیا تو آغاز میں اس معاملہ کو جماعت پر روشن نہیں کیا گیا بلکہ تحریک جدید کے وہ چند عہدیدار ، جن کا اس دورے کے انتظامات سے تعلق تھا، صرف ان کو ہی بتایا گیا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے دو مختلف آدمیوں کو، جن (کو) اس دورے کا کوئی بھی علم نہیں تھا، بذریعہ خواب اس دورہ کے متعلق اطلاع دی۔ان میں سے ایک دوست ہمارے خاندان سے ہی تعلق رکھتے ہیں، ان کا بڑے تعجب کے اظہار پر مشتمل پر ایک خط مجھے ملا اور انہوں نے یہ پوچھا کہ میں نے ایک ایسی خواب دیکھی ہے، جس سے مجھے خیال ہوتا ہے کہ کہیں آپ انڈو نیشیا جانے کا پروگرام تو نہیں بنار ہے۔ان کی خواب یہ تھی کہ میں انڈونیشیا سے باہرلیکن قریب ہی کسی جگہ بیٹھا ہوا ہوں اور انڈو نیشیا میں تبلیغ اسلام کی سکیم بنارہا ہوں۔اور انہوں نے جو تبلیغی سکیم بناتے ہوئے دیکھا، مجھے تو وہ جانتے تھے، باقی دوستوں کو انہوں نے نہیں پہچانا کہ وہ کون ہیں؟ لیکن ایک ایسا کمرا ہے، جس میں میرے سوا اور بھی چند لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اور ہم بڑے انہماک کے ساتھ انڈو نیشیا کو احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے لئے بڑے پیمانے پر فتح کرنے کا پروگرام بنا ر ہے ہیں۔یہ خواب حیرت انگیز طور پر پوری ہوئی۔کیونکہ ان کے اس خط کے ملنے سے پہلے ہی ہمیں یہ اطلاع مل گئی تھی کہ ہمیں انڈونیشیا جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔اور یہ فیصلہ بھی کیا جا چکا تھا کہ انشاء اللہ سنگا پور میں انڈونیشیا کے دوستوں کو بلا کر وہاں ان سے مشورہ کر کے آئندہ کے پروگرام بنائیں گے۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں انڈو نیشیا کو بھی جہاں تک اس دورے کے فوائد کا تعلق ہے، شامل فرمالیا گیا ہے۔بالکل اسی مضمون کی خواب اللہ تعالیٰ نے ایک اور ایسے شخص کو دکھائی ، جس کا ہمارے خاندان سے تو کوئی تعلق نہیں اور ویسے بھی جماعت میں وہ کوئی معروف آدمی نہیں ہیں، ایک گاؤں کے رہنے والے ہیں، ان کا وہم بھی نہیں جا سکتا تھا انڈونیشیا کی طرف اور اس طرف کہ انڈونیشیا جانے کا پروگرام ہو اور وہاں جانے کی توفیق نہ ملے۔بہر حال اس دورے کی اہمیت کے پیش نظر میں چند امور آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔یہ وہ علاقے ہیں، جو بعض پہلوؤں سے بہت ہی بد قسمت ہیں۔کیونکہ اسلام کو اگر چہ ایک زمانہ میں یہاں نفوذ کی 530