تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 43
تحریک جدید - ایک الہی تحریک خطبہ جمعہ فرمودہ 10 ستمبر 1982ء ایک چھوٹا سا سپرے پمپ رکھا ہوا تھا۔جب ہم وہاں پہنچے تو انہوں نے ہمیں بتایا کہ دیکھو! اس طرح تبلیغ کرتا ہوں۔پمپ سے سپرے کرتے تھے اور کچھ لوگ اکٹھے ہو جاتے تھے شوق اور تعجب میں۔مشرقی قسم کی خوشبو سے ویسے بھی ایک خاص دلچسپی پیدا ہو جاتی تھی۔اور سپرے کرتے ہوئے اس وقت جو ہم نے نظارہ دیکھا، وہ یہ تھا کہ انہوں نے کہا کہ دیکھو! یہ کتنی اچھی خوشبو ہے لیکن یہ خوشبو تو زیادہ دیر تمہارے ساتھ نہیں رہے گی۔یہ تو کپڑوں میں رچ بس کے بھی آخر دھل کر ضائع ہو جائے گی۔ایک، دودن، چار دن کی بات ہے۔میرے پاس ایک اور عطر بھی ہے۔ایک ایسا عطر، جس کی خوشبو لا فانی ہے۔وہ کبھی ختم نہیں ہوگی۔اس دنیا میں بھی تمہارا ساتھ دے گی اور اس دنیا میں بھی تمہارا ساتھ دے گی۔اگر چاہتے ہو کہ اس خوشبو سے متعلق مجھ سے کچھ معلومات حاصل کرو تو یہ میرا کارڈ ہے۔جب چاہو ، آؤ مجھے ملو۔اور میں تمہیں بتاؤں گا کہ وہ خوشبو کیا ہے؟ اور کیسے حاصل کی جاتی ہے؟ بہت سے لوگ وہ کارڈ لیتے تھے۔کچھ عطر خرید کر الگ ہو جاتے تھے۔اس طرح تبلیغ کے رستے نکلتے تھے۔پس یہ ساری وہ قربانیاں ہیں، جو اس موقع پر از خود مجھے یاد آ رہی ہیں۔اور میں ضروری سمجھتا ہوں کہ جماعت کو بھی ان سے آگاہ کروں اور اس طرف توجہ دلاؤں کہ اپنی دعاؤں میں ان کو نہ بھولیں۔ایک دو ماہ پہلے کی بات ہے، ایک شخص نے بڑا ہی متکبرانہ خط مجھے لکھا اور اس میں ان کے یعنی برادرم کرم الہی صاحب ظفر کے متعلق ایسے لفظ استعمال کئے ، جس سے میرا دل پھٹ گیا۔اس کو اپنے علم کا زعم تھا۔اس کو خیال تھا کہ ان کا علم کچھ نہیں۔اس کو اپنی شکل وصورت کا زعم تھا۔اور خیال تھا کہ اس کے مقابل پر ان کی شکل وصورت کچھ نہیں۔لیکن بعض ایسے بھی ہوتے ہیں، جو دنیا کی نظر میں کوئی حقیقت نہیں رکھتے لیکن اللہ کے پیار اور محبت کی نظریں ان پر پڑتی ہیں۔میرا دل غم سے پھٹ گیا اور استغفار کی طرف اس کے لئے مائل ہوا۔اور ساتھ ہی مجھے وہ واقعہ یاد آ گیا، جبکہ مدینہ کے بازار میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ایک غلام کو بیچ رہے تھے۔وہ ایسا غلام تھا، جس کے کپڑوں میں سے بدبو آتی تھی۔دن بھر کی محنت اور مشقت سے پسینے سے شرابور اور آلودہ لباس میں وہ ملبوس تھا۔انسان اس کی بدصورتی کی وجہ سے اس سے نفرت کرتے تھے۔کوئی اس کو اپنی لڑکی دینے کے لئے تیار نہیں تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا۔آپ نے اپنی البی بصیرت سے اس کے دل کی کیفیت کو بھانپ لیا اور پیچھے سے جا کر پیار سے اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لئے۔جس طرح بعض دفعہ مائیں بچوں کی آنکھوں پر ہاتھ رکھتی ہیں اور پوچھتی ہیں کہ بتاؤ میں کون ہوں؟ وہ جانتا تھا اور یقیناً جانتا تھا کہ حمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے 43