تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 44
خطبہ جمعہ فرموده 10 ستمبر 1982ء تم تحریک جدید - ایک الہی تحریک سوا کوئی ایسا حسین اخلاق کا مالک نہیں ، جو مجھ سے ایسے پیار کا اظہار کرے۔لیکن اس کی زندگی میں ایک ایسا عجیب موقع تھا کہ وہ اس کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہتا تھا۔جان بوجھ کر ، پہچاننے کے باوجود اپنے جسم کو حضور اکرم کے جسم سے رگڑنا شروع کیا۔اپنے ہاتھوں کو آپ کے جسم کے زیر و بم پر پھیرنا شروع کیا اور بہت ہی پیار کا اظہار، جس طرح بعض دفعہ بلی ، آپ نے دیکھا ہے، لحاف میں گھس کر پیار کرتی ہے اور اپنے بدن کو رگڑتی ہے انسان کے ساتھ ، اس طرح اس نے اظہار محبت شروع کر دیا۔پھر جب حضور نے پوچھا، بتاؤ میں کون ہوں؟ اس نے کہا، یا رسول اللہ ! آپ کے سوا ہو کون سکتا ہے۔آپ ہی تو ہیں۔تب آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں ایک غلام بیچتا ہوں، ہے کوئی لینے والا ؟ اس نے کہا، یا رسول اللہ ! مجھے کون خریدے گا؟ لوگوں کی نفرت کی نگاہیں مجھ پر پڑتی ہیں اور شدت نفرت سے لوٹ جاتی ہیں واپس دیکھنے والے کی طرف۔مجھ پر ٹھہر نہیں سکتیں۔مجھے کون خریدے گا ؟ آپ نے فرمایا نہیں، تمہارا ایک گا بک ہے، میرا آسمانی آقا۔میرا خدا تمہارا گا ہک ہے۔پس بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں، جو دنیا کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے ، دنیا کی نگاہیں حقارت سے ان کو دیکھتی ہیں:۔تَزْدَرِى أَعْيُنُكُمُ (هود: 32) جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے۔لیکن جنہوں نے اپنا سب کچھ خدا کے لئے پیش کر دیا ہو، اللہ کے پیار کی نگاہیں ان پر پڑا کرتی ہیں۔ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ اللہ کے پیار کی نگاہیں ان سب قربانی کرنے والوں کے دل پر پڑیں، ان کے چہروں پر پڑیں، ان کے جسم کو اس سے مس کریں، جنہوں نے کسی نہ کسی رنگ میں سپین میں تبلیغ کی راہ میں قربانیاں پیش کی تھیں۔ان کی اولاد بھی ساری اسی رنگ میں رنگی ہوئی ہے، خدا کے فضل سے۔انتہائی انکسار کے ساتھ خدا کی راہ میں مٹی ہو کر انہوں نے خدمت کی۔بیٹے کیا اور بیٹیاں کیا، ماں کیا اور باپ کیا۔سارا خاندان لگا ہوا ہے۔کسی نے ایک لفظ نہیں کہا کہ ہماری اتنی خدمتیں ہیں، ہمیں کیوں نمایاں مقام نہیں دیا گیا ؟ ہم سے کیوں یہ سلوک نہیں کیا گیا؟ یہ وہ جذبہ ہے ، یہ وہ روح ہے، جو واقفین میں ہونی چاہئے۔اور ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اس روح کو ہر واقف کے دل میں زندہ کر دے۔اور جگہ جگہ بستی بستی ہمیں اس قسم کی روح کے واقفین میسر ہوں۔کیونکہ کام بہت ہے اور آدمی تھوڑے ہیں۔طاقت بہت کم ہے۔مقابل پردشمنوں کی تعداد کیا اور ان کی مالی قوتیں کیا اور ان کی سیاسی قوتیں کیا۔بے انتہا۔ایسی نا قابل عبور چوٹیاں نظر آتی ہیں پہاڑوں کی ، جن کا سر کرنا انسان کے بس میں نظر نہیں آتا۔44