تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 42
خطبہ جمعہ فرموده 10 ستمبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک کچھ امیر لوگوں کی وقتی کوشش یا جذباتی قربانی کا نتیجہ نہیں، کچھ ایسے لوگوں کی ، جن کو خدا نے زیادہ دولت بخشی ہو اور وہ نہ جانتے ہوں کہ کہاں خرچ کرنی ہے؟ بلکہ خصوصاً اس مسجد کے پیچھے تو ایک بہت ہی لمبی ، گری، مسلسل قربانیوں کی تاریخ ہے۔اور اس موقع پر اگر ہم ان کو یاد نہ کریں اور ان لوگوں کو اپنی دعاؤں میں شامل نہ کریں، جو اس مسجد کے پس منظر میں خاموشی سے کھڑے انکسار کے ساتھ اپنے رب کے دعا گو نظر آ رہے ہیں تو یہ ناشکری ہوگی۔میری مراد برادرم مکرم کرم الہی صاحب ظفر اور ان کے خاندان کی قربانی سے ہے۔ایک لمبا عرصہ اس خاندان نے سپین میں دن رات احمدیت کی خدمت کے لئے سر توڑ کوشش کی۔ایسے وقتوں میں، نے کے لئے سر جب کہ یہاں کی حکومت اتنی سنگدل اور سخت تھی کہ دوسرے عیسائی فرقوں کو بھی اجازت نہیں تھی کہ وہ یہاں تبلیغ کرتے۔اس زمانے میں جب کہ کوئی ذریعہ نہیں تھا جماعت کے پاس ان کی مدد کا ، مالی حالات کی تنگی بھی تھی اور قوانین کی روک بھی رستے میں حائل تھی۔اور ممکن نہیں تھا کہ ان کو سلسلہ کسی قسم کی مدد دے سکتا۔انہوں نے ایک خاص جذبہ قربانی میں اپنے آپ کو پیش کیا اور حضرت مصلح موعودؓ نے اس قربانی کو قبول فرمایا۔آپ نے قبول فرمایا اور اللہ کی محبت کی نظر نے بھی قبول فرمایا۔اور آج اس قربانی ہی کا ایک پھل ہے کہ ہم اس کی شیرینی سے لذت یاب ہو رہے ہیں۔بہت عرصہ پہلے مجھے پین میں آنے کا موقع ملا اور میں نے اپنی آنکھوں سے وہ نظارہ دیکھا، جو ہمیشہ کے لئے میرے دل پر نقش ہو گیا۔ایک معمولی چھوٹی سی ریڑھی تھی ، جس پرخود عطر بنا کر، وہ عطر بیچ کر اپنا گزارہ بھی کرتے تھے اور تبلیغ کا کام بھی کرتے تھے۔1957ء کی یہ بات ہے، مجھے اور برادرم عزیزم میر محمود احمد صاحب کو یہاں آنے کا موقع ملا۔وہ ایسی ریڑھی تھی، جس کو بعض دفعہ رکھنے کی جگہ بھی میسر نہیں آتی تھی۔دشمنوں کو پتہ چلتا تھا تو اس کو تو ڑ جاتے تھے۔بعض رحمدل دکاندار بعض دفعہ ان کو جگہ دے دیتے تھے۔پھر کچھ دیر کے بعد وہ جگہ چھوڑ کر کوئی اور جگہ تلاش کرنی پڑتی تھی۔طریق تبلیغ یہ تھا کہ وہی عطر بیچ کر اپنا گزارہ بھی کرتے تھے اور اس سے بچی ہوئی رقم اپنی طرف سے وہ لٹریچر کے لئے پیش کیا کرتے تھے۔ایسے وقت بھی آئے ، جب کہ ان کے گھر پر بھی حملے ہوئے۔وہ جو بورڈ لگا ہوا تھا، اس کے اوپر پتھروں کے نشان ہم نے خود دیکھے۔چھپ چھپ کر اصحاب کہف کی طرح وہ ابتدائی احمدی، جنہوں نے ان مخالفانہ حالات میں احمدیت کو اور اسلام کو قبول کیا۔وہ اکٹھے ہوا کرتے تھے۔دشمن مخبری کرتے تھے ، لوگ حملہ کر کے آتے تھے اور وہ بڑی مصیبت اور بڑی مشکل سے اپنی عزتیں اور جانیں بچاتے تھے۔عطر کے ساتھ انہوں نے 42