تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 497
خطبه جمعه فرموده 12 اگست 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک منزل نہ بناؤ۔یہ تو ایک اعلیٰ وارفع انعام کی منزل ہے۔جس پر پہنچنے کے لئے لاکھوں ترستے ہوئے مر گئے اور لاکھوں ترستے رہیں گے۔خالد بن ولید کا وقت یاد کرو، جب بستر مرگ پر روتے روتے اس کی ہچکی بندھ گئی اور ایک عیادت کرنے والے نے تعجب سے پوچھا کہ اے اللہ کی تلوار ! تو جو میدان جہاد کی ان کڑی اور مہیب منزلوں میں بھی بے خوف اور بے نیام رہا، جہاں بڑے بڑے دلاوروں کے پتے پانی ہوتے تھے۔آج تو موت سے اتنا خوفزدہ کیوں ہے؟ تجھے یہ بزدلی زیب نہیں دیتی۔خالد نے اسے جواب دیا کہ نہیں نہیں ، خالد بن ولید موت سے خائف نہیں ہے۔بلکہ اس غم سے نڈھال ہے کہ راہ خدا میں شہادت کی سعادت نہ پاسکا۔دیکھو یہ وہی خالد تھا، جو ہر میدان جہاد میں یہ تمنا لے کر گیا کہ کاش میں بھی ان خوش نصیبوں میں داخل ہو جاؤں، جو اللہ کی راہ میں شہید کئے جاتے ہیں۔یہ تمنا لئے ہوئے وہ ہر خطرہ کے بھنور میں کود پڑا، ہر اس گھمبیر مقام پر پہنچا، جہاں سرتن سے جدا کئے جارہے تھے اور گردنیں کاٹی جارہی تھیں اور سینے برمائے جارہے تھے اور اعضائے بدن کے ٹکڑے کئے جارہے تھے لیکن ہر ایسے مقام سے وہ غازی بن کر لوٹا اور شہادت کا جام نہ پی سکا۔پس بستر مرگ پر اس سوال کرنے والے کو خالد نے اپنے بدن کے وہ داغ دکھائے ، جو میدان جہاد میں کھائے جانے والے زخموں نے پیچھے چھوڑے تھے۔اپنے بدن سے کپڑا اٹھایا اور اپنا پیٹ دکھایا اور اپنی چھاتی دکھائی اور اپنے بازو ننگے کئے اور کندھوں کے جوڑ تک۔اپنے داغ داغ بدن کا ماجرا اس کے سامنے کھول کر رکھ دیا اور کہا کہ دیکھو اور یہ دیکھو اور یہ دیکھو اور یہ دیکھو اور اے دیکھنے والے مجھے بتاؤ کہ کیا ایک انچ بھی ایسی جگہ تمہیں دکھائی دیتی ہے، جہاں اللہ کی راہ میں خالد نے زخم نہ کھائے ہوں؟ لیکن وائے حسرت اور وائے حسرت کہ خالد شہید نہ ہو سکا۔یہ غم، جو آج مجھے کھائے جارہا ہے، ان زخموں کے دکھ سے کہیں زیادہ جاں سوز ہے، جو شوق شہادت میں، میں نے کھائے تھے۔پس اے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے دروازے سے راہ سلوک میں داخل ہونے والو! تمہاری زندگی کے سفر میں لازماً صالحیت سے بالاتر مقام بھی آئیں گے۔خوب یا درکھو کہ یہ خوف و ہراس اور نقصان و زیاں کا راستہ نہیں بلکہ لامتناہی انعامات کا ایک پہاڑی راستہ ہے۔جس کے انعام کی ہر منزل پہلی سے بلند تر ہے۔پس خوشی اور مسرت اور عزم اور یقین کے ساتھ آگے بڑھو۔تبلیغ اسلام کی جو جوت میرے مولیٰ نے میرے دل میں جگائی ہے اور آج ہزار ہا احمدی سینوں میں یہ لو جل رہی ہے، اس کو بجھنے نہیں دینا، اس کو سمجھنے نہیں دینا تمہیں خدائے واحد و یگانہ کی قسم اس کو سمجھنے نہیں دینا۔اس مقدس امانت کی حفاظت کرو۔میں خدائے ذوالجلال والاکرام کے نام کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر تم اس شمع کوالالالالالا کم کھا کر کہتا ہوں کہ تم اس 497