تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 474 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 474

خطاب فرمودہ 27 جولائی 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک روپے ماہوار ہو۔یہ دھوکا نہ تو خدا کو دیا جا سکتا ہے اور نہ کسی پاگل سے پاگل آدمی کو۔یہ تو اپنے نفس کو دھوکا دینے والی بات ہے اور بڑی بیوقوفی کی بات ہے۔جب اس معاملے میں چھٹی نہ تھی، اس وقت بھی حقیقت چھپا کر جھوٹ بولنانا جائز تھا۔اب جبکہ کہہ دیا گیا ہے کہ جتنا دینا ہے دیں، مگر جھوٹ نہ بولیں تو اب تو سچائی کو چھوڑ نا کسی قیمت پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔باہر کی جماعتوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے حیرت انگیز تبدیلیاں آرہی ہیں۔پاکستان میں بھی اور بیرونی ممالک میں بھی۔باہر کے ممالک کا حال یہ ہے کہ شروع میں ایسی چٹھیاں آنی شروع ہوئیں کہ پاکستان سے یہاں آنے کے بعد ابھی پوری طرح سیٹ نہیں ہوئے، قرضوں کا بوجھ ہے، ہنگی ہے، اس لئے کم چندہ ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔میں نے کہا: شوق سے اجازت لو۔مگر یہ اجازت کا خط ان تک پہنچنے سے پہلے ان کا خط آگیا کہ ہم نے بڑی غلطی کی کہ کم چندہ دینے کی اجازت کا خط لکھ دیا۔اب ہم کو خدا تعالیٰ نے حوصلہ اور طاقت دے دی ہے، ہم پورا چندہ ادا کریں گے۔ایسے لوگ بھی تھے، جنہوں نے لکھا کہ بڑی تنگی ہے ، حالات خراب ہیں، چندہ میں کمی کی اجازت دی جائے۔مگر تھوڑی ہی دیر میں اللہ نے ایسا فضل ان پر فرمایا کہ وہ نہ صرف لازمی چندے بلکہ طوعی چندوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگے۔بہت بڑی برکات ان کو مل رہیں ہیں۔آپ لوگ چندوں کا مطالبہ نہ کریں، سچائی کا مطالبہ کریں۔نفس کی سچائی کا اور جھوٹ نہ بولنے کا مطالبہ کریں۔یہ اصل بات ہے، اس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اس بارے میں سسٹم کی اصلاح کی بھی ضرورت ہے۔تاجروں کو براہ راست نہیں تو بالواسطہ ایسی صورت پیش آجاتی ہے کہ ان سے بات کرو تو وہ کئی قسم کے اخراجات گنا دیتے ہیں کہ گھر کا اعلیٰ معیار تو تجارتی مصالح کی بناء پر ہے۔اس کے علاوہ فلاں فلاں خرچ ہے۔اس طرح سے سو بہانے مل جاتے ہیں، جھوٹ بولنے کے۔ایسے لوگوں سے ہم یہ کہتے ہیں کہ زیادہ تفصیل میں نہ جائیں، فی الحقیقت جو ان کا واجب الا دا چندہ بنتا ہے ، وہ ضرور ادا کریں اور کہیں کہ سو بنتا ہے یا دوسو بنتا ہے، اتنا چندہ ادا کروں گا۔ایک اور بات یہ ہے کہ ربوہ کے حلقوں میں صد سالہ جوبلی کے چندوں میں بڑی کمی نظر آتی ہے۔باقی جماعتوں کے سالانہ چندوں میں اور صد سالہ جوبلی کے چندوں میں ازخود ایک نسبت طے پاگئی ہے۔لیکن ربوہ میں اس نسبت سے اس میں بہت کمی ہے۔ربوہ کا چندہ عام اور چندہ حصہ آمد کراچی کے برابر ہے۔کراچی کا جوبلی کا چندہ ایک کروڑ ، چالیس لاکھ روپے ہے۔لیکن ربوہ کا صد سالہ جو بلی کا چندہ 474