تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 38 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 38

خطاب فرمودہ 10 ستمبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک یقین رکھتے ہیں کہ دنیا کے تمام مصائب اور تمام مسائل کا حل ایک اور صرف ایک ہے کہ وہ اپنے خالق اور اپنے مالک اور اپنے رب کی طرف لوٹ آئے۔تمام بنی نوع انسان کو محبت کے رشتوں میں باندھنے کا اس کے سوا اور کوئی ذریعہ نہیں۔جیسے ایک ماں اور ایک باپ کے بچے رحمت اور محبت کا ایک طبعی جذبہ اپنے دل میں موجزن پاتے ہیں۔ایک ہی خالق کی مخلوق ہونے کا یقین اور اپنے تعلقات کو اس یقین کے سانچے میں ڈھالنا ہی مشرق اور مغرب، شمال اور جنوب میں بسنے والے انسانوں کو وہ محبت عطا کر سکتا ہے، جس کو آج انسانیت ایک ایسے پیاسے کی طرح ترس رہی ہے، جو پانی کے بغیر پیتے ہوئے صحرا میں ایڑیاں رگڑ رہا ہو۔پس اس خدا کی قسم کھا کر میں اپنی اور اپنی جماعت کی طرف سے یہ اعلان کرتا ہوں، جس کے قبضے میں ہماری جانیں ہیں اور جو دلوں کے حال سے خوب واقف ہے کہ ہم اہل سپین کے لئے خدائے واحد و یگانہ اور بنی نوع انسان کی محبت کے سوا اور کوئی پیغام نہیں لائے۔دنیا میں بعض ایسی قومیں بھی ہوں گی، جو محبت کے سوا بھی فتح کی جاسکتی ہوں اور فتح کی جاتی ہیں۔لیکن اہل سپین ان قوموں میں سے نہیں۔اہل سپین کے متعلق تاریخ کا مطالعہ مجھے بتاتا ہے کہ اس قوم کو محبت کے سوا کسی اور ہتھیار، کسی اور کوشش، کسی اور ذریعہ سے فتح نہیں کیا جاسکتا۔اہل بصیرت تاریخ دانوں نے نپولین کی آخری شکست کے اسباب کا تجزیہ کرتے ہوئے کیا خوب لکھا ہے کہ نپولین کی ناکامی کا سب سے بنیادی اور سب سے اہم اور سب سے زیادہ تباہ کن امر یہ تھا کہ وہ اہل سپین کے مزاج کو سمجھنے میں ناکام رہا۔اور تلوار سے اس قوم کو رام کرنے اور بیرونی حکومت کے قیام کی کوشش کی، جس کی سرشت میں ہی تلوار سے رام ہونا نہیں لکھا تھا۔پس نپولین نے نہ تو روس کی یخ بستہ لق و دق برفانی وسعتوں میں شکست کھائی ، نہ واٹرلو کے میدان میں اس کی تقدیر کا فیصلہ ہوا۔اس کی تقدیر کا فیصلہ تو اسپین کے میدانوں اور اسپین کے ٹیلوں اور اسپین کے پہاڑوں پر ہوا۔اور اسی روز اس کے مقدر میں شکست لکھی جاچکی تھی، جب اس نے اہل سپین کے دل تلوار کی قوت سے جیتنے کی کوشش کی۔میں اپنے رب کی عطا کردہ بصیرت سے اور اسی کی راہنمائی کے نتیجہ میں اس یقین پر قائم ہوں کہ اہل اسپین کی فتح محبت اور عشق اور خدمت کے ہتھیاروں سے مقدر ہو چکی ہے۔اور کوئی اس تقدیر کو بدل نہیں سکتا۔لیکن ساتھ ہی اہل اسپین کو میں یہ تسلی بھی دیتا ہوں کہ محبت کی فتح تو ایک دو دھاری تلوار کی فتح ہوا کرتی ہے، جو ایک ہی وار میں مفتوح کی طرح فاتح کے دل پر بھی چلتی ہے۔اور فاتح اور مفتوح کے درمیان کوئی فرق نہیں رہنے دیتی۔دونوں کو یکساں ایک دوسرے کی محبت میں تڑپتا چھوڑ جاتی ہے۔اور عاشق اور 38