تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 37
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خطاب فرمودہ 10 ستمبر 1982 ء کا بیش قیمت سامان مسجد کے لئے پیش کر دیا۔اللہ ان دونوں کو اپنی بہترین جزاء سے نوازے اور ان سب کو بھی، جنہوں نے کسی بھی رنگ میں مسجد کی خدمت کی۔لیکن پیشتر اس کے کہ میں اس مضمون کو آگے بڑھاؤں، میں یہ بیان کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جہاں میرا دل اس مقدس خوشی کی تقریب کے موقع پر خوشی اور حمد کے جذبات سے لبریز ہے، وہاں ساتھ ہی ایک درد کی کسک بھی پاتا ہے۔جو ایک پیاری یاد کے نتیجہ میں اٹھ رہی ہے۔وہ یاد تنہا میری ہی ملکیت نہیں بلکہ دنیا کے لکھوکھا (Millions) احمدی اس یاد میں میرے شریک ہیں اور میرے ساتھ یہ درد بانٹنے والے ہیں۔صرف احمدی ہی نہیں ، خود اس علاقہ کے وہ تمام خوش نصیب باشندے، جنہوں نے اس مسجد کے سنگ بنیاد کی تقریب کا مشاہدہ کیا اور ہمارے سابق محبوب امام حضرت مرزا ناصر احمد صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے متعارف ہوئے۔وہ سب بھی بلاشبہ اس میٹھی یاد اور اس سے پیدا ہونے والے درد میں ہمارے شریک ہیں۔لیکن وہ مقدس آسمانی آقا، جس کے نام کی عظمت اور تقدیس کی خاطر یہ مسجد بنائی جارہی ہے، وہ ہمیں ہر دوسرے وجود سے زیادہ پیارا ہے۔ہر چند کہ جانے والے سے ہمیں بہت محبت تھی لیکن بلانے والا اس سے بھی زیادہ پیارا ہے۔پس ہمارے دل اس کی رضا پر راضی اور اس کے حضور جھکے ہوئے ہیں۔وہ ہر دوسرے وجود سے زیادہ ہمیں عزیز ہے۔اور ہر دوسرے وجود سے زیادہ اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے۔وہ رحمت اور شفقت اور پیار کا ایک نا پید کنارہ سمندر ہے، جس کا نہ ازل میں کوئی کنارہ ہے، نہ ابد میں کوئی آخری حد۔اپنی مخلوقات سے اس کی شفقت اور رحمت بے حد و حساب ہے۔ہر مذہب، جو رحمت کے اس ازلی سر چشمہ سے پھوٹتا ہے، لازم رحمت ہی کی تعلیم دیتا ہے۔اور بنی نوع انسان کے لئے سوائے کچے پیار اور ہمدردی کے اور کچھ نہیں پیش کرتا۔اس اٹل اصول کے برعکس بھی اسی طرح درست ہے۔یعنی کوئی مذہب اگر خدا کی طرف سے ہونے کا دعوی کرے لیکن خداہی کے نام پر انسان انسان کے درمیان نفرت اور بغض اور کینہ اورفتنہ اور فساد کی تعلیم دے تو یقینا وہ مذہب جھوٹا ہے۔کیونکہ محبت کے سینے سے نفرت کا چشمہ نہیں پھوٹ سکتا۔اور ماں کے سینے سے دودھ کی بجائے زہر تاریخ کی دھاریں نہیں بہا ، کرتیں۔اسلام کی سچائی کا ثبوت بھی اس کی تعلیم میں مضمر ہے، جو امن اور صلح اور محبت اور رحمت کی تعلیم ہے۔آخر ایک دفعہ پھر میں یہ بات واضح کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم اہل سپین کے لئے نیک جذبات کے سوا کچھ اپنے دلوں میں نہیں پاتے۔اور ان کو اس خدائے واحد و یگانہ کی طرف بلانے کے لئے آئے ہیں، جس کی عبادت کے لئے کامل خلوص کے ساتھ آج ہم اس مسجد کے افتتاح کے لئے جمع ہوئے ہیں۔ہم یہ 37