تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 39
خطاب فرموده 10 ستمبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد معشوق، فاتح اور مفتوح کے فرق مٹادیتی ہے۔نہیں نہیں بلکہ یہ ایک عجیب دنیا ہے۔جہاں فاتح ، مفتوح بن جاتا ہے اور مفتوح، فاتح۔دیکھو عاشق اپنے محبوب پر فتح پاتا ہے تو اس سے اس کے مظالم کا انتظام تو نہیں لیا کرتا۔بلکہ اور بھی اس کے حضور گرتا ہے اور زاری کرتا ہے کہ عذر پیش کر کے مجھے دکھ نہ دو کہ تمہارے ہاتھوں جو بھی زخم لگا، وہ زخم نہیں تھا ، علاج تھا۔اب میں اس خطاب کو بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ (حضرت اقدس۔ناقل ) کے کلام پرختم کرتا ہوں- جن کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانے کو ہلاکت سے بچانے کے لئے امام بنایا ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔اے محبت عجب آثار نمایاں کر دی زخم۔و مرہم بره یار تو یکساں کر دی تا نه دیوانه شدم ہوش نہ امدم بسرم اے جنوں گرد تو گردم که چه احسان کردی در مشین فارسی طبع دوم صفحه 28 -287) خدا کرے، ہمیں تمام بنی نوع انسان سے ایسی ہی محبت کرنے کی توفیق نصیب ہو اور بنی نوع انسان کو وہ دل عطا ہوں ، جو ایک دوسرے سے ایسی ہی محبت کرنے لگیں“۔مطبوعه روزنامه الفضل 106اکتوبر 1982ء) | 39