تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 413
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 04 مارچ 1983ء یہ سوچے گا کہ روس کے صدر نے فلاں حکمت کا کام کیا یا صبر کا نمونہ دکھایا، اس لئے دنیا ہلاکت سے بچ گئی۔کوئی یہ خیال کرے گا کہ اہل یورپ کو اللہ تعالیٰ نے دانش عطا فرمائی تھی اور ان کی حکمتوں کے نتیجہ میں دونوں بلاک یعنی روس اور امریکہ سمجھ گئے اور لڑائی ٹل گئی۔اور بعض یہ سوچیں گے کہ شاید چین کی طاقت جو Develop ہورہی تھی اور ترقی کر رہی تھی ، اس نے ایک ایسا رول Play کیا ، ایسا کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں دنیا ہلاکت سے بچ گئی۔لیکن خدا کی تقدیر جانتی ہوگی اور بعد میں آنے والا انسان بھی اس بات کی گواہی دے گا کہ دنیا کی ہلاکت صرف اس بار یک دھا گے پرلٹکی ہوئی تھی کہ وہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی طرف توجہ کرتی ہے یا نہیں؟ چنانچہ احمدی بیدار ہوئے ، ان کو بشدت اس بات کا احساس ہوا کہ آج دنیا کے ہلاک ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ اس امر پر ہوگا کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے اس طرف توجہ کی گریہ و زاری سے دعائیں کیں، نیک اعمال کئے اور دنیا کو خدا کی طرف بلایا اور محض اور محض اس وجہ سے دنیا ہلاکت سے بچائی گئی۔یہ ہے تقدیر کا فیصلہ اور یہی درست ہوگا کہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے سوا اور کوئی طریق انسان کے بچنے کا نہیں ہے۔بعد میں آنے والا جو ایک لمبے عرصہ کے بعد پیدا ہوگا ، وہ بھی یہی سوچے گا اور اسی نتیجے پر پہنچے گا کہ حقیقت میں دنیا کی نجات احمدیت پر منحصر تھی۔احمدیوں نے اپنے فرض کو کما حقہ ادا کیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کو بچالیا۔اس لئے میں بڑی سنجیدگی کے ساتھ بار بار آپ کو تو جہ دلا رہا ہوں کہ داعی الی اللہ بننے کی کوشش کریں۔داعی الی اللہ بننے کے لئے کچھ ذمہ داریاں ہیں، کچھ فرائض ہیں، کس طریق پر آپ کا میاب داعی الی اللہ بن سکتے ہیں؟ کونسی باتیں کرنی چاہئیں؟ اور کونسی نہیں کرنی چاہئیں؟ اس سلسلہ میں ، میں چند باتیں انشاء اللہ تعالیٰ اگلے خطبے میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔اس وقت صرف یہ کہہ کر خطبے کو ختم کرتا ہوں کہ جو ذمہ داری میں نے اللہ تعالیٰ کے منشا کے مطابق آپ سب پر ڈالی ہے اور توقع رکھتا ہوں کہ ہر احمدی اس ذمہ داری کو پوری توجہ، پورے انہماک اور پورے خلوص کے ساتھ قبول کرے گا، اس کے لئے ساری جماعت کو خصوصیت سے دعا کرنی چاہئے۔میری زندگی کا تجربہ ہے کہ جب بھی دعا کی طرف سے غفلت ہوئی کامیابی نہیں ہوئی اور جب بھی دعا کی طرف توجہ پیدا ہوئی بظاہر مشکل اور ناممکن کام بھی بن گئے۔موجودہ حالات میں یہ کہنا کہ ہر احمدی مبلغ بن جائے ، اتنا مشکل نظر آ رہا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے، جیسے میں ایک ناممکن بات کہہ رہا ہوں۔لیکن ساتھ ہی یہ یقین بھی رکھتا ہوں کہ اگر میں نے دعاؤں میں کمی نہ کی اور اسی طرح جماعت نے بھی کوئی کمی نہ کی تو یہ بات، جو بظاہر ناممکن نظر آ رہی ہے، ضرور ممکن ہو جائے گی۔اسی حقیقت کو حضرت مصلح موعود نے اپنے شعر میں یوں بیان فرمایا ہے:۔413