تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 412 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 412

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 04 مارچ 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم یہ خیال کہ اسلام نے بہر حال غالب آتا ہے، اس لئے لازما ساری دنیا بچائی جائے گی۔اس کے اندر تھوڑی سی Fallacy، غلط نہی اور ایک ابہام سا پایا جاتا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ خدا کے انبیاء غالب تو ضرور آیا کرتے ہیں لیکن وہ غلبہ دو قسم کا ہوا کرتا ہے۔ایک غلبہ تو یہ ہے کہ ساری قوم یا اس کی اکثریت ایمان لے آئے۔اور ایک ایسا غلبہ کہ ایمان نہ لانے کے نتیجہ میں انسان کی اکثریت کو ہلاک کر دیا جائے۔یہ دونوں قسم کے غلبے ہمیں قرآن کریم میں ملتے ہیں۔اس لئے اس بارے میں بہر حال کوئی شک نہیں کہ اسلام لازما غالب آئے گا۔مگر اس کی ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جو لوگ اسلام کے پیغام کو نہ سنیں ، ان کو بہت وسیع پیمانے پر ہلاک کر دیا جائے اور پھر جو بچے ، ان پر اسلام غالب آجائے۔اب سوال یہ ہے کہ ہم نے کونسا غلبہ اپنے لئے پسند کرنا ہے؟ وہ غلبہ ، جو کم سے کم ہلاکت کے نتیجہ میں حاصل ہوتا ہے یاوہ غلبہ جو زیادہ سے زیادہ ہلاکت کے نتیجہ میں حاصل ہوتا ہے۔اگر تو حضرت نوح علیہ السلام ہمارے امام ہوتے تو ہمیں دوسرے غلبے کا حاصل ہونا، کوئی بعید نہیں تھا اور کوئی تعجب کی بات نہیں تھی۔مگر ہمارے - امام تو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔جن کے غلبے میں کم سے کم جانی اتلاف اور نقصان ہوا ہے" پس ہمارے لئے جو مقصد حیات مقرر کیا گیا ہے، وہ تو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور آپ کے نمونے پر انقلاب برپا کرنا ہے۔اس لئے ہلاکتوں والا انقلاب تو ہمیں سجتا نہیں۔ہمیں تو ایسا انقلاب چاہئے ، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں بر پا کر کے دکھایا۔اس مقصد کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ ہم غیر معمولی بیداری کے ساتھ کام کریں۔جو وقت کھو یا جا چکا ہے، وہ تو اب واپس نہیں آسکتا۔لیکن جو وقت ہمیں میسر ہے، اس کا ایک ایک لمحہ ہمیں بہترین رنگ میں استعمال کرنا ہوگا۔اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہر احمدی بلا استثنا مبلغ بنے۔وہ وقت گزر گیا کہ جب چند مبلغین پر انحصار کیا جاتا تھا۔اب تو بچوں کو بھی مبلغ بنا پڑے گا ، بوڑھوں کو بھی مبلغ بننا پڑے گا۔یہاں تک کہ بستر پر لیٹے ہوئے بیماروں کو بھی مبلغ بننا پڑے گا۔اور کچھ نہیں، وہ دعاؤں کے ذریعہ ہی تبلیغ کے جہاد میں شامل ہو سکتے ہیں۔دن رات اللہ سے گریہ وزاری کر سکتے ہیں کہ اے خدا! ہمیں اتنی طاقت نہیں ہے کہ ہم چل پھر کر تبلیغ کر سکیں، اس لئے بستر پر لیٹے لیٹے تجھ سے التجا کرتے ہیں کہ تو دلوں کو بدل دے۔ہم اپنی ذمہ داری کو سمجھ لیں اور اس جذبے کے ساتھ کام شروع کر دیں تو مجھے سو فیصد یقین ہے کہ دنیا کی ہلاکت کی تقدیر اللہ کے فضل سے مل سکتی ہے۔۔دنیا کے اس ہلاکت سے بچنے کے متعلق بعد میں آنے والے مؤرخین مختلف وجوہات نکالیں گے۔کوئی کہے گا کہ امریکہ کے فلاں صدر نے فلاں حکمت کا کام کیا، اس لئے دنیا ہلاکت سے بچ گئی۔کوئی 412